Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

نگران وفاقی وزیر خزانہ و من...

Published : 13 June 2018

وفاقی وزیر کا اعلی افسران سے تعارف او...


Clarification of the news item on CDWP appeared in...

Published : 8 June 2018

Need has been felt to clarify a press report published in the daily Ex...


اعلی سطحی افغان وفد کی منصو...

Published : 28 May 2018

اعلی سطحی افغان وفد کی منصوبہ بندی کمی...


CDWP approved 24 projects of worth Rs. 19.6 billio...

Published : 25 May 2018

Central Development Working Party meeting was held under the chairmans...


سنٹرل ڈویلپنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 50.5ارب روپے مالیت کے 33 منصوبے منظور

Dated : 29 March 2018


سنٹرل ڈویلپنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 50.5ارب روپے مالیت کے 33 منصوبے منظور جبکہ 22.5ارب روپے مالیت کے 2 منصوبے ایکنک کو بھجوا دیے گئے

سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام کی شرکت ۔
توانائی، آبی وسائل ، ٹرانسپورٹ و مواصلات، ، فزیکل پلاننگ، گورننس ، ہائر ایجوکیشن ، تعلیم ، انفرادی قوت اور صحت سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے ۔
توانائی
سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں توانائی کا ایک منصوبہ 14070.21 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے نیشنل گرڈ سسٹم کے ساتھ گوادراور مکران کو قومی گرڈ کے ساتھ منسلک کرنا ہو گا جس کو اجلاس نے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا ۔
صحت
نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں نیشنل ڈیوائس ڈویپلمنٹ سنٹر کے قیام کے لیے 231.83 ملین روپے لاگت کا منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد بئیر میٹل سٹنٹ اور ڈرگ الیوٹنگ سٹنٹ کی پیداوار کے لیے سنٹر کا قیام کرنا ہے ہے جس کو اجلاس نے منظور کر لیا ۔
۔ دوسرا منصوبہ کراچی یونیورسٹی میں 500 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ ہسپتال ، میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے قیام کے لیے 8406.00 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس نے ایکنک کو بھجوا دیا ۔
تعلیم
کوہاٹ کینٹ میں ایف جی ڈگری کالج فار بوائز کالج کے لیے 190.404 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس نے منظور کر لیا ۔
ہائر ایجوکیشن
پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کے قیام استحکام اور پھیلاو کے لیے سی پیک آپٹیکل فائبر کے لیے 1998.273 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا کو منظور کر لیا گیا ۔
۔ زرعی یونیورسٹی پشاور میں جدید ٹیکنالجوی ڈویپلمنٹ سنٹر کے قیام کے لیے 1757.40ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلا س میں منظور کر لیا گیا ۔
۔ ناروال یونیورسٹی کی بحالی ، ترقی اور مرمت کے لیے 2594.600 ملین روپے کی منظوری دی گئی ۔
۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجئیرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے لیے 794.258 ملین روپے کی منظوری ۔
۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل ۤباد کے چنیوٹ کمپس کی تعمیر کے لیے 1918.55 ملین روپے کی منظوری ۔
۔ یونیورسٹی آف کراچی میں جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے 2130.450 ملین روپے کی منظوری
۔ نیشنل سنٹر آف بیسک سائینسز کے قیام کے لے 2433.906 ملین روپے کی منظوری

افرادی قوت
پولی ٹیکنیک انسٹیوٹ فار بوائز فار بوائز بلتستان ریجن کے قیام کے لیے 601.996 ملین روپے کی منظوری
گورننس
۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے موجودہ فائر فائیٹنف نظام کی بحالی کے لیے 1742.00 ملین روپے کی منظوری
۔ اسلام ۤآباد د میں ماڈل پولیس سٹیشن کی کے قیام کے لیے 2482.415 ملین روپے کی منظوری
فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ
۔ گوادر میں ماحولیاتی صفائی کے نظام اور کچرے کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے رفع کرنے کے لیے 2268.66 ملین روپے منصوبے کی منظوری ۔
۔ کراچی میں وفاقی لاج 1 کی توسیع کے لیے 277.144 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس نے منظور کر لیا ۔
ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشنز
۔ بلوچستان کے علاقے آب گم کو سنگان سے ملانے کے لیے 42 کلو میٹر طویل سڑک کا منصوبہ 2195.85 ملین روپے کی لاگت سے منظور ہوا ۔

آبی وسائل
۔ رحیم یار خان میں ڈیلاس کنال ڈویژن کے مقام پر سپلائی بند کی کٹائی اور توسیع کے 136.906 ملین روپے کا منصوبہ منظور کر لیا گیا
۔ جے ہیڈ سپیر کی توسیع کے لیے 133.579 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ منظور کر لیا گیا ۔
۔ کوئٹہ میں زمینی پانی کے ری چارج کے لئے 200 چھوٹے چیک ڈیموں کی تعمیر کے لیے 298.368 ملین روپے کا منصوبہ ۔۔۔

۔ ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں سٹوریج ڈیم کی تعمیر کے لیے 462.16 ملین روپے کا منصوبہ منظور
۔ ضلع خضدار میں ڈیم کی تعمیر کے لیے 400 ملین کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس میں منظور
۔ ضلع خصدار میں کنگوری 11 سٹوریج ڈیم کی تعمیر کے لیے 94.350 ملین روپے کا منصوبہ منظور
۔ ضلع خصادار میں بہر سٹوریج ڈیم کی تعمیر کے لیے 89.780 ملین روپے کا منصوبہ منظور
۔ ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں ٹک سٹوریج ڈیم کی تعمیر کے لیے 226.46 ملین روپے کا منصوبہ منظور
۔ ضلع گوادر میں ڈوسی ڈیم کی تعمیر کے لیے 499.898 ملین روہے کی لاگت کا منصوبہ مںظور
۔ ضلع موسی خیل میں خزینہ ڈیم کی تعمیر کے لیے 300 ملین روہے کی لاگت کا منصوبہ منظور
۔ ضلع نوشکی میں خیصر پتی ڈیم کی تعمیر کے لیے 114.77 ملین روپے کا منصوبہ منظؤر
۔ ضلع نوشکی میں راکو ڈیم کی تعمیر کے لیے 50 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ مںطور