Ministry of Planning
Development & Reform
News Alerts: وفاقی وزیر و ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی صدارت میں سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ---------- اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام کی شرکت ---------- سی ڈی ڈبلیو پی میں 61.9 ارب روپے سے زائد کے7ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نے چار میگا پراجیکٹس کو مزید منظوری کیلئے ایکنک بھجوادیا ---------- ترقیاتی منصوبوں میں ٹرانسپورٹ و کیمونیکیشن، آبی ذخائر، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ماس میڈیا، افرادی قوت اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبے شامل ہیں ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 43.5 ارب روپے کے 2میگا پراجیکٹس کی منظوری دے دی ---------- ان منصوبوں میں ٹھوکر نیاز بیگ تا ہدیارہ ڈریں ملتان روڈ کی اپ گریڈیشن شامل ہے ---------- منصوبے کا بتدائی تخمینہ 10.3ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ---------- منصوبے کے تحت موجودہ این 5 چار لین سڑک کی 11 کلو میٹر سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا ---------- منصوبے کیلئے اراضی کا حصول ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، وفاقی وزیر احسن اقبال ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نے جگلوٹ سکردو روڈ کی اپ گریڈیشن منصوبے کی منظوری دے دی منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 33.13ارب روپے لگایا گیا ہے ---------- نیشنل ہائے وے اتھارٹی کے اس منصوبے کے تحت 164 کلو میٹر جگلوٹ سے سکردو ایس ۔1 شاہراہ کی اپ گریڈیشن کی جائے گی ---------- شاہراہ کی تعمیر سے سکردو اور گلگت بلتسان کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی ---------- منصوبے پر تعمیراتی کا م شروع کرانے کیلئے فوری اقدامات کی جائے، وفاقی وزیر ---------- منصوبے کی ڈیزائنگ نقائص سے پاک ہو ، منصوبے کی لاگت کی تیسرے فریق سے توثیق کرائی جائے، وفاقی وزیر ---------- سی ڈی ڈبلیو پی میں وارسک کنال ری ماڈلنگ منصوبہ منظور منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 12.14ارب روپے لگایا گیا ہے ---------- منصوبے کے تحت پشاور اور نوشہرہ کے اضلاع میں دریا کابل کےنہری نظام کو بہتر کیا جائے گا۔ ---------- آبی ذخائر کے منصوبوں کی فنڈنگ کے حوالے سے قومی اقتصادی کونسل کے 50/50فیصد فارمولے کو مد نظر رکھا جائے، وفاقی وزیر ---------- ایسے منصوبوں میں 50فیصد صوبائی حکومت جبکہ 50فیصد فنڈز کی ذمہ داری وفاق کی ہوگی، وفاقی وزیر ---------- سی ڈی ڈبلیو پی میں 10کروڑ روپے کی لاگت سے ایس سی او ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ گلگت بلتستان کے قیام کا منصوبہ منظور منصوبے کے تحت موجودہ اور روزگار کے نئے مواقعوں کے حوالے سے اعلیٰ معیارکی تربیت کیلئے تکنیکی ادارہ قائم کیا جائے گا ---------- اس منصوبوں سے گلگت بلتستان کے ہزاروں نوجوان کو جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تربیت دی جائے گی اس ادارے کی عمارت کی تعمیر مقامی روائتی فن تعمیر کو مد نظر رکھ کر کیا جائے، احسن اقبال ---------- سی پیک کے تحت جاری فائبر آپٹک کا منصوبہ رواں سال دسمبر میں مکمل ہوگا جس سے یہ علاقے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے، وفاقی وزیر ---------- فائبر آپٹک منصوبے کی تکمیل کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں سافٹ وئیر پارک کے قیام پر کام شروع کیا جائے، احسن اقبال کی ہدایت ---------- سافٹ وئیر پارک کے قیام سے اس علاقے کے عوام انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے دور سے مستفید ہوسکیں گے، احسن اقبال ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نےسیاحت کے شعبے میں پنجاب ٹورازم و اکنامک گروتھ پراجیکٹ کی منظوری دیدی حکومت پنجاب کےاس منصوبے پر 5.7 ارب روپے کی لاگت آئے گی، منصوبہ ورلڈ بنک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا ---------- منصوبے کے تحت صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقامات کو ترقی دینے اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنایا جائے گا صوبے میں پہلے سےسیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو اس منصوبے میں شامل کیا جائے ، وفاقی وزیر کی ہدایت ---------- سیاحت کو فروغ دینے وآثار قدیمہ کے تحفظ کیلئے تمام صوبے ماسٹر پلان بنائے، وفاقی وزیر احسن اقبال ---------- سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے سڑکوں و دیگرسہولیات کی تعمیر کیساتھ ساتھ معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، احسن اقبال ---------- سیاحتی مقامات کی مناسب تشہیر یقینی بنا کر دنیا بھر سے سیاحوں کومتوجہ کیا جائے، وفاقی وزیر ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نے فاٹا اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کی تکنیکی تربیت کا منصوبہ منظور کرلیا 78.6ملین روپے کے اس منصوبے کے تحت 1100نوجوانوں کو ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے گی ---------- سی ڈی ڈبلیو پی نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پیداواریت، معیار و جدت پراجیکٹ منطور کرلیا اعلیٰ تعلیم کے اس منصوبے پر 276.4ملین روپے کی لاگت آئے گی

Press Release

YEAR 2017; Completion of CPEC early harvest projec...

Published : 12 June 2017

Islamabad, June 12, 2017:- The year 2017, an important year for China ...


Federal Minister Ahsan Iqbal addressing at Nationa...

Published : 29 May 2017

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اح...


Ahsan Iqbal addressing Senate Of Pakistan...

Published : 29 May 2017

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی ا...


اسلام آباد میں وفاقی وزیر ا...

Published : 26 May 2017

اسلام آباد میں وفاقی وزیر احسن اقبال ک...


Solve the crises of potable water shortage in Gwadar.

Dated : 18 January 2017

Islamabad, Jan 18, 2017: Minister for Planning, Development and Reform (PD&R) Professor Ahsan Iqbal has instructed concerned authorities to immediately solve the crises of potable water shortage in Gwadar.

“Keeping in view the future expansion of Gwadar City, Port and planned industrialization, all-out efforts must be ensured,” remarked Minister PD&R while presiding a meeting at Planning Commission in in Islamabad. The meeting was attended by officials from Ministry of Planning, Development and Reform, Government of Balochistan and Gwadar Development Authority.

Ahsan Iqbal directed that existing desalination plant at Karwat should be operationalized immediately. He made it clear that uninterrupted power supply from different sources has to be ensured in order to run the plant on its full capacity.

He further asked authorities to speed up work on necessary facilities of fresh water treatment, water supply and distribution project initiated under China Pakistan Economic Corridor. “This project will not only resolve this issue permanently but would cater the future growing” Ahsan Iqbal added.


Minister PD&R Ahsan Iqbal emphasized that the hospital at Gwadar should be run in a professional manner to ensure maximum health services to the local population. “An effective business model must be devised to ensure smooth functioning of this health institute”.

Earlier, Dr. Sajjad Hussain, Director General, Gwadar Development Authority (GDA), informed the participants about the drought like situation in entire Makran belt which is mainly because of dry spell.

He told that Ankara Kaur dam the main source of water in Gwadar was close to dead level because its catchment areas had not received rains for many years adding that present need is catered through water tankers from Mirani Dam.

Current need of water is 4.6 million gallons per day, which is expected to rise to 12 MGD till 2020 and 30 MGD till 2030.

To cater need of drinking water in Gwadar, the construction of first phase of Shadi Kaur Dam has been completed through Public Sector Development Program (PSDP) at the cost of Rs. 3800 million. A project of transmission lines from Swad and Shadi Kaur Dam to get 5.0 MGD water has been initiated with additional 5.0 MGD desalination plant at the cost of Rs. 7900 million.

DG GDA also briefed the meeting about existing hospital at Gwadar and its expansion plan under Chinese grant.

A three member committee comprising Member (Infra) MPDR, Secretary Health Balochistan and DG GDA was formed to explore all options for public private partnership and prepare a business model for management of the hospital at Gwadar.