Ministry of Planning
Development & Reform

Press Release

Federal Minister Ahsan Iqbal inaugurated Kamra Air...

Published : 6 July 2017

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اح...


CDWP approves 178.3 billion for 17 development pro...

Published : 6 July 2017

Islamabad, July 06, 2017:- The Central Development Working Party has a...


INDUSTRIALIZATION UNDER CPEC NOT AT EXPENSE OF LOC...

Published : 4 July 2017

Islamabad (4 July 2017): Federal Minister for Planning, Developing & R...


سائنس ٹیلنٹ فارمنگ سکیم کے ...

Published : 4 July 2017

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں اجلاس۔ ...


Federal Minister Ahsan Iqbal addressing at National Consultative Conference on HEC Vision 2025

Dated : 29 May 2017

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا قومی ترقی کے لیے نا گزیر ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور موجودہ حکومت کا یہی ویژن ہے کہ پاکستان کے نوجوانون کو جدید علوم اور مہارت سے آراستہ کرکے بہترین مستقبل کی ضمانت فراہم کی جائے۔ اسی سوچ اور ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے موجودہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ 21 ارب روپے سے بڑھا کر 35.5 ارب روپے کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ان خیالات کا اظہار وژن 2025 برائے اعلی تعلیم کے حوالے سے ایچ ای سی کے زیر اہتمام منعقد کی گئی ایک قومی مشاورتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے خلاف منفی پراپگنڈا کیا گیا اور حقائق کو جانے بغیر تبصرے کئے گئے لیکن ہم نے ملکی ترقی کے ایجنڈے کو ہر گزرتے ہوئے پل کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اس بات کا واویلا مچایا گیا کہ حکومت کی ساری توجہ صرف سڑکیں بنانے پر مرکوز ہے اور تعلیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ سڑکیں اور انفراسٹرکچر ملکی معیشت کے استحکام اور تعلیم کے فروغ کے لئے ناگزیر ہیں، ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈا جاری رکھا گیا۔ ہم نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا اور اس بجٹ میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے ریکارڈ رقم مختص کی۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اعلی تعلیم کی ترویج اور یونیورسٹیوں کو جدید بنانے پر کسی بھی حکومت سے زیادہ توجہ مرکوز کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے وژن 2025 میں انسانی وسائل کی نمو اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کے کی خاطر ملک میں علم پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کی اہمیت تسلیم کی اور ہمارے اقدامات کی بدولت ‎2025 تک پاکستان کا شمار دنیا کی 25 بڑی معیشتوں میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو سی کے شمارے کے مطابق اگر پاکستان اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو 2030 تک پاکستان کا شمار دنیا کی 20 مضبوط معیشتوں میں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مادی وسائل اور ذہنی سوچ کا درست استعمال ہی ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ملک کی معیشت کو علم کی بنیادوں پر استوار کرنے اور تمام شہریوں کو اعلی تعلیم کے مساویانہ مواقع دینے کی خاطر ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں نئی یونیورسٹی کے قیام یا کسی بڑی یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے گذشتہ چار سالوں کے دوران ہائر اجوکیشن کمیشن کا بجٹ 130 فیصد تک بڑھایا۔ آج فاٹا، گوادر ، خضدار اور تربت جیسے پسماندہ ترین اضلاع میں نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں اور کیپمس کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں، احسن اقبال نے کہا کہ سڑک ہی نہیں ہو گی تو بچے سکول، یونیورسٹی کالج تک رسائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ایشین ٹائیگر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو تعلیم پر توجہ اور شعبہ تعلیم کو مستحکم کرنا ہو گا۔ آج کی دنیا مقابلے بازی اور معاشی تصورات کی دنیا ہے جس کی معیشت کی بنیاد ہی علم پر استوار ہے ۔ اقوام عالم میں ممتاز اور قابل احترام حصول کے لیے علم پر مبنی معیشت کا راستہ اپنانا ہو گا اور علم میں تحقیق ، تنقید اور جدت پر مبنی سوچ کے عمل کو پروان چڑھانا ہو گا۔


احسن اقبال نے کہا کہ 2013 میں جب ہم نے لیپ ٹاپ اسکیم کو نوجوانوں کو دیے تو اسے نوجوانوں کے لئے رشوت قرار دیا گیا مگر ہم نے اس اسکیم کو جاری رکھا اور آج پاکستان دنیا کے پہلے چار ان ملک میں شامل ہے جس کا نوجوان اپنی غیر معمولی صلاحیت اور استعداد کی وجہ سے ملک کو جدید ڈیجیٹل دنیا میں لانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لیپ ٹاپ کی بدولت آج پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا فری لانسنگ ملک بن چکا ہے جس کا نوجوان ادھر ادھر نوکری ڈھونڈنے کی بجائے اپنے لئے خود روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے اور ملک میں انٹرپرینیوشپ کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ حکومت ایک لاکھ نوجوانوں کو ای آر پی سسٹم کی تربیت دی جائے گی جس کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

احسن اقبال کا کہناتھا کہ ہمیں ہر نوجوان کو پاکستان کے ہر ضلع ہر دیہات میں اعلی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے وسائل محدود ہیں ہمیں ایسے ریسرچرز چاہئیں جو ہماری ترقی میں ہاتھ بٹا سکیں۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے سالانہ ترقیاتی منصوبے میں تین نئے منفرد منصوبے شامل کئے ہیں جن میں سنٹرآف ایکسیلیسن ان بگ ڈیٹا اینڈ کلاوڈ کمپیوٹنگ، سنٹر آف ایکسلنس ان سائیبر سیکیورٹی، سنٹرل آف ایکسیلنس ان آٹومیشن ہے ہم جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ چلیں گے تو ہم ترقی کریں گے ۔


احسن اقبال نے مزید کہا کہ اس دفعہ ہم نے یونیورسٹی اولپمکس کے نام سے ایک جامع منصوبے کے لیے بھی رقم مختص کی ہے تاکہ تمام یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ستھ ساتھ کھیلوں میں بھی ایک دوسرے سے مسابقت کریں معاشرے میں سپورٹس کلچر پروان چڑھے اور قومی سطح پر پڑھے لکھے کھلاڑی پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب کھیل بھی سائنس بن چکا ہے اور دوسرے ممالک کے کھلاڑی تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ذہنی طور پر زیادہ ہوشیار اور چست ہیں ہم ہر شعبے میں اپنے آپ کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں رٹہ سسٹم کا خاتمہ کرنے کے لئے اعلی تعلیم کے نصاب پر نظرثانی کرنا چاہئیے، موجودہ نظام جدید دور میں تحقیق کو فروغ دینے کے معیار کو نہیں پہنچتا۔ ہمیں ایسا ماحول تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں علم، اکتشاف اور تحقیق کو فروغ حاصل ہو اور طلبہ کی ذہنی آبیاری کے لئے ان میں جاننے، جانچنے اور مشاہدہ کرنے کی دماغی صلاحیتوں کو ابھارا جا سکے