Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."

Press Release

نگران وفاقی وزیر خزانہ و من...

Published : 13 June 2018

وفاقی وزیر کا اعلی افسران سے تعارف او...


Clarification of the news item on CDWP appeared in...

Published : 8 June 2018

Need has been felt to clarify a press report published in the daily Ex...


اعلی سطحی افغان وفد کی منصو...

Published : 28 May 2018

اعلی سطحی افغان وفد کی منصوبہ بندی کمی...


CDWP approved 24 projects of worth Rs. 19.6 billio...

Published : 25 May 2018

Central Development Working Party meeting was held under the chairmans...


نگران وفاقی وزیر خزانہ و منصوبہ بندی کا وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کا دورہ۔ اس موقع پر وزارت کے اعلی افسران نے اجلاس میں شرکت کی

Dated : 13 June 2018


وفاقی وزیر کا اعلی افسران سے تعارف اور شعبہ جات اور وزارت کے ماتحت جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ سیکریٹری وزارت منصوبہ بندی شعیب احمد صدیقی کی جانب سے انتظامی امور اور وزارت کے معاملات اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا

وفاقی وزیر ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ہمیں تمام حالات میں اپنی توجہ شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا وزارت منصوبہ بندی تمام وزارتوں میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وزارت منصوبہ بندی کی کارکردگی حکومتی کارکردگی کا تعین کرتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کمیشن حکومت کے دماغ اور تھنک ٹینک کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی ہمیشہ سے ہی ذہین لوگوں کا مرکز رہی ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا مجھے خوشی ہے کہ میں نے بھی اپنے کیریئر کا آغاز منصوبہ بندی کمیشن سے کیا، اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد منصوبہ بندی کمیشن کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا صوبوں کی رہنمائی کے لئے منصوبہ بندی کمیشن و وزارت منصوبہ بندی کا صوبوں کے ساتھ تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے اھداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن کا کردار قابل ستائش ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا پائیدار ترقی کے اھداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے صوبوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کے فروغ اور مزید وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک آبادی میں اضافے کا رجحان عالمی سطح پر ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا آبادی کے اضافے کو قابو میں لانے اور بنیاد ضروریات زندگی کی فراہمی کےلئے وسائل کی دستیابی یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی کے حوالے سے منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے لئے بنگلہ دیش کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا بہتر منصوبہ بندی اور نتائج کے حصول کے کئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا متعدد ممالک نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طئے کی ہیں،