وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے زور دیا ہے کہ پاکستان کے لئے اقتصادی ترقی حاصل کرنے کا واحد راستہ برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے ہفتے کے روز ایکسپو سینٹر لاہور میں پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PRGMEA) کے زیر اہتمام 28ویں ٹیکسٹائل ایشیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر 2024 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس وسیع وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں لیکن مسابقت، منافع اور اقتصادی ترقی بڑھانے کے لئے پیداوار، معیار اور جدت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
منصوبہ بندی کے وزیر نے بتایا کہ تقریباً 550 کمپنیاں سات ممالک سے اس ایکسپو میں شریک ہوئیں، اور کہا کہ ایسی تجارتی میلوں اور نمائشوں کا مقصد کسی بھی ملک کی برآمدات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دینا اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس سے پاکستانی روپے کو تقویت ملے گی اور قومی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لئے قرضوں کے بوجھ سے نکلنے اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے۔
احسن اقبال نے اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ مظاہروں پر توجہ دے رہی ہے بجائے کہ ملک کے مسائل کے حل کے لئے تعمیری تجاویز پیش کرے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات کو دور کرنے اور ترقی حاصل کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
موجودہ اقتصادی مشکلات کے حوالے سے انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کو ایک عارضی حل کے طور پر بیان کیا، جسے انہوں نے ‘کڑوی گولی’ قرار دیا جسے پاکستان کو آخرکار آگے بڑھنے کے لئے نگلنا ہوگا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کو حکومتی اولین ترجیح قرار دیا اور مستحکم معیشت کے لئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا برآمدات کی ترقی کے ذریعہ ہی ہم خودانحصاری حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے ایک بار پھر سی پیک فیز ٹو کے ذریعہ تعاون کی بھرپور پیشکش کی ہے۔ ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا۔ لیکن جب بھی سی پیک شروع ہوتا ہے ایک گروہ ملک میں انتشار اور فساد شروع کر دیتا ہے۔ یہ کس کے اشاروں پہ چلتے ہیں؟
منصوبہ بندی کے وزیر نے برآمدات کے فروغ میں تجارتی میلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عالمی سطح پر “میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو متعارف کروانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک بڑھانے اور 2047 تک بھارت سے آگے نکل جانے کا ایک بلند ہدف مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا پاکستانی روپے کو مستحکم کرے گا اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کرے گا۔
بجلی کے مسئلے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس مسئلے کے پس منظر اور حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں آئی تو اسے شدید بجلی کی قلت کا سامنا تھا، جس کے نتیجے میں 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ اس کے جواب میں حکومت نے چین کے ساتھ تعاون کرکے آٹھ ہزار میگاواٹ کے پاور پراجیکٹس قائم کیے، ساتھ ہی تین ہزار میگاواٹ کے منصوبے مقامی طور پر مالی تعاون سے مکمل کیے گئے۔لیکن 2018 کے بعد ناتجربہ کار اور اناڑی حکومت مسلط کر دی گئی جس نے معیشت کو کریش کر کے ملک سے بجلی کی مانگ گرا دی۔ اسی طرح ہر طرح کی درآمدات کے لئے دروازے کھول کر تجارتی خسارہ 50 ارب ڈالر پہ پہنچا دیا گیا جس سے ذرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو گئے اور روپیہ گراوٹ کا شکار ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
احسن اقبال نے سیاسی عدم استحکام کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہروں اور دھرنوں کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے موجودہ مسائل کے حل کے لئے ماہرین کے درمیان مکالمے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ سیاسی مظاہرے ممکنہ سرمایہ کاروں کو دور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے رہنماؤں کو حکومت کے ماہرین کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کے چیلنجز کا تعمیری حل تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کے اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اختلافات کو ایک طرف رکھنے اور برآمدات کے فروغ اور موثر مسائل کے حل کے ذریعے قومی معیشت کو مضبوط کرنے پر توجہ دینے کی دعوت دی۔
منصوبہ بندی کے وزیر نے بتایا کہ تقریباً 550 کمپنیاں سات ممالک سے اس ایکسپو میں شریک ہوئیں، اور کہا کہ ایسی تجارتی میلوں اور نمائشوں کا مقصد کسی بھی ملک کی برآمدات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دینا اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس سے پاکستانی روپے کو تقویت ملے گی اور قومی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لئے قرضوں کے بوجھ سے نکلنے اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے۔
احسن اقبال نے اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ مظاہروں پر توجہ دے رہی ہے بجائے کہ ملک کے مسائل کے حل کے لئے تعمیری تجاویز پیش کرے۔ انہوں نے سیاسی اختلافات کو دور کرنے اور ترقی حاصل کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
موجودہ اقتصادی مشکلات کے حوالے سے انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کو ایک عارضی حل کے طور پر بیان کیا، جسے انہوں نے ‘کڑوی گولی’ قرار دیا جسے پاکستان کو آخرکار آگے بڑھنے کے لئے نگلنا ہوگا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کو حکومتی اولین ترجیح قرار دیا اور مستحکم معیشت کے لئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا برآمدات کی ترقی کے ذریعہ ہی ہم خودانحصاری حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے ایک بار پھر سی پیک فیز ٹو کے ذریعہ تعاون کی بھرپور پیشکش کی ہے۔ ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا۔ لیکن جب بھی سی پیک شروع ہوتا ہے ایک گروہ ملک میں انتشار اور فساد شروع کر دیتا ہے۔ یہ کس کے اشاروں پہ چلتے ہیں؟
منصوبہ بندی کے وزیر نے برآمدات کے فروغ میں تجارتی میلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عالمی سطح پر “میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو متعارف کروانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک بڑھانے اور 2047 تک بھارت سے آگے نکل جانے کا ایک بلند ہدف مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا پاکستانی روپے کو مستحکم کرے گا اور قومی اقتصادی استحکام میں مدد کرے گا۔
بجلی کے مسئلے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس مسئلے کے پس منظر اور حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں آئی تو اسے شدید بجلی کی قلت کا سامنا تھا، جس کے نتیجے میں 20 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ اس کے جواب میں حکومت نے چین کے ساتھ تعاون کرکے آٹھ ہزار میگاواٹ کے پاور پراجیکٹس قائم کیے، ساتھ ہی تین ہزار میگاواٹ کے منصوبے مقامی طور پر مالی تعاون سے مکمل کیے گئے۔لیکن 2018 کے بعد ناتجربہ کار اور اناڑی حکومت مسلط کر دی گئی جس نے معیشت کو کریش کر کے ملک سے بجلی کی مانگ گرا دی۔ اسی طرح ہر طرح کی درآمدات کے لئے دروازے کھول کر تجارتی خسارہ 50 ارب ڈالر پہ پہنچا دیا گیا جس سے ذرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو گئے اور روپیہ گراوٹ کا شکار ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
احسن اقبال نے سیاسی عدم استحکام کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہروں اور دھرنوں کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے موجودہ مسائل کے حل کے لئے ماہرین کے درمیان مکالمے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ سیاسی مظاہرے ممکنہ سرمایہ کاروں کو دور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے رہنماؤں کو حکومت کے ماہرین کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کے چیلنجز کا تعمیری حل تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کے اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اتحاد اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اختلافات کو ایک طرف رکھنے اور برآمدات کے فروغ اور موثر مسائل کے حل کے ذریعے قومی معیشت کو مضبوط کرنے پر توجہ دینے کی دعوت دی۔