وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا توانائی کے مربوط منصوبوں پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں انٹیگریٹد انرجی پلان پر منعقد ورکشاپ میں اہم خطاب کیا۔ اس ورکشاپ میں صنعت کے ماہرین، سرکاری افسران اور اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے، کانفرنس اسکا مقصد ملک کے توانائی کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجوں اور پائیدار اور سستی توانائی کے حل کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال تھا۔
اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے ان اہم چیلنجز پر روشنی ڈالی جن کا پاکستان کو اس وقت توانائی کے شعبے میں سامنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایک مستحکم اور جدید معیشت کے قیام کے لیے سستی اور سبز توانائی کے حل کی طرف منتقل کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے ماضی کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کی بجلی کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد دریاؤں سے پن بجلی پر انحصار کرتا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، ملک کی معیشت اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تیل پر مبنی ایندھن کی طرف منتقل ہو گیا، جس سے پاکستان تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے دوران آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا حوالہ دیا، جس نے توانائی کے نظام کو تیل پر مبنی ایندھن پر منتقل کیا۔ جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، پاکستان کو تیل کی درآمد کی زیادہ لاگت کی وجہ سے اپنے توانائی کے پلانٹس کو چلانے میں مشکل ہوتی گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وژن 2010 میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ 2006 تک پاکستان کو بحلی کی اضافی ضرورت ہوگی تاہم، ملک میں پالیسیوں کے عدم تسلسل سے ہم بجلی کی کمی کا شکار ہوے اور 2013 تک ملک میں 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ بڑھ گئی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے تحت بیشتر بجلی کے منصوبے شروع کیے گئے۔ ان میں تھر کول کا منصوبہ سی پیک کے منصوبوں میں شامل کیا گیا اور جس کے تحت ہمیں سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی۔ مزید برآں، توانائی کے مختلف سیکٹرز سے زریعہ حصول کےلیے ہائیڈرو پاور ، ہائیڈل پاور، سولر پاور، ونڈ پاوراور جوہری توانائی کے منصوبے شروع کیے گئے۔
وفاقی وزیر جناب احسن اقبال نے کہا کہ 16 ماہ کی حکومت میں انٹیگریٹد انرجی پلانگ ماڈل متعارف کروایا جس کا مقصد توانائی کے تمام وسائل کا بہتر استعمال ہے تاکہ سستی اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل مختلف شعبوں بشمول بجلی، پانی اور پیٹرولیم کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں سردیوں میں توانائی کی طلب کم جبکہ گرمیوں توانائی کی طلب زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے پیش نظر سردیوں میں توانائی کی طلب کو بڑھانے کی ضرورت ہے اس کے لیے کنزیومرز کو بجلی کی مصنوعات پر منتقل کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔
پروفیسر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے معاشی اقدامات کے تحت آج ملک کی سمت درست ہو چکی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم استحکام اور مسلسل اصلاحات کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کا تسلسل ممکن بنائیں تاکہ ہم اپنے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنا سکیں اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں انٹیگریٹد انرجی پلان پر منعقد ورکشاپ میں اہم خطاب کیا۔ اس ورکشاپ میں صنعت کے ماہرین، سرکاری افسران اور اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے، کانفرنس اسکا مقصد ملک کے توانائی کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجوں اور پائیدار اور سستی توانائی کے حل کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال تھا۔
اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے ان اہم چیلنجز پر روشنی ڈالی جن کا پاکستان کو اس وقت توانائی کے شعبے میں سامنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایک مستحکم اور جدید معیشت کے قیام کے لیے سستی اور سبز توانائی کے حل کی طرف منتقل کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے ماضی کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کی بجلی کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد دریاؤں سے پن بجلی پر انحصار کرتا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، ملک کی معیشت اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تیل پر مبنی ایندھن کی طرف منتقل ہو گیا، جس سے پاکستان تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے دوران آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کا حوالہ دیا، جس نے توانائی کے نظام کو تیل پر مبنی ایندھن پر منتقل کیا۔ جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، پاکستان کو تیل کی درآمد کی زیادہ لاگت کی وجہ سے اپنے توانائی کے پلانٹس کو چلانے میں مشکل ہوتی گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وژن 2010 میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ 2006 تک پاکستان کو بحلی کی اضافی ضرورت ہوگی تاہم، ملک میں پالیسیوں کے عدم تسلسل سے ہم بجلی کی کمی کا شکار ہوے اور 2013 تک ملک میں 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ بڑھ گئی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے تحت بیشتر بجلی کے منصوبے شروع کیے گئے۔ ان میں تھر کول کا منصوبہ سی پیک کے منصوبوں میں شامل کیا گیا اور جس کے تحت ہمیں سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی۔ مزید برآں، توانائی کے مختلف سیکٹرز سے زریعہ حصول کےلیے ہائیڈرو پاور ، ہائیڈل پاور، سولر پاور، ونڈ پاوراور جوہری توانائی کے منصوبے شروع کیے گئے۔
وفاقی وزیر جناب احسن اقبال نے کہا کہ 16 ماہ کی حکومت میں انٹیگریٹد انرجی پلانگ ماڈل متعارف کروایا جس کا مقصد توانائی کے تمام وسائل کا بہتر استعمال ہے تاکہ سستی اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل مختلف شعبوں بشمول بجلی، پانی اور پیٹرولیم کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں سردیوں میں توانائی کی طلب کم جبکہ گرمیوں توانائی کی طلب زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے پیش نظر سردیوں میں توانائی کی طلب کو بڑھانے کی ضرورت ہے اس کے لیے کنزیومرز کو بجلی کی مصنوعات پر منتقل کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔
پروفیسر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے معاشی اقدامات کے تحت آج ملک کی سمت درست ہو چکی ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم استحکام اور مسلسل اصلاحات کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کا تسلسل ممکن بنائیں تاکہ ہم اپنے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنا سکیں اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔