وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال کی زیر صدارت ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی پر ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد ۔ اجلاس میں تاجروں کے ساتھ پاکستان کی تجارتی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے سینئر حکام، تجارتی نمائندگان اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تاکہ پاکستان کے اندر اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، چین اور جنوبی ایشیا کو ملانے میں اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ کنیکٹیویٹی پاکستان کو ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سی پیک (چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور) کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان __ چین اور وسیع تر خطے بشمول یورپ کے درمیان تجارت کا اہم راستہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے تحت کی گئی سرمایہ کاری اور ملک کے اندر بنائے گئے انفراسٹرکچر کو بہترین انداز میں استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین میں لاگت اور مؤثر کنیکٹیویٹی کلیدی عناصر ہیں اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان میں کنیکٹیویٹی نہ صرف موجود ہو بلکہ مؤثر بھی ہو۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کئی ممالک کے درمیان کنیکٹیویٹی تو موجود ہے، لیکن کسٹمز کلیئرنس میں درپیش رکاوٹوں کے باعث اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ہمیں کنیکٹیوٹی میں حائل ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو ملکی تجارت کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں تاکہ پاکستان اپنی سٹریٹیجک پوزیشن کا بہترین فائدہ اٹھا سکے۔
وفاقی وزیر نے ورکنگ گروپ کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ سپلائی چین کی لاگت اور فوائد کا تفصیلی جائزہ لیں اور ان خامیوں کی نشاندہی کریں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر اداروں کی جانب سے کیے گئے پچھلے مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں آپریشنل چیلنجز کی نشاندہی کی گئی تھی۔ وفاقی وزیر نے مختلف ٹرانسپورٹ روٹس کے ساتھ منسلک لاگتوں کا موازنہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس سالوں میں، اگر پاکستان کنیکٹیویٹی کوریڈورز کو مکمل کر لیں تو پاکستان کی معیشت میں نمایاں ترقی ہو سکتی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جو ممالک ترقی کرتے ہیں، وہ دس سے بیس سال آگے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں ہر منصوبے کو سیاسی عدم استحکام کا نشانہ بنایا گیا۔ کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ ملک میں اب امن، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے اصولوں پر عمل درآمد ہوگا۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ پالیسوں پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان عالمی تجارت میں نمایاں حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
جناب احسن اقبال نے کہا کہ ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی منصوبے کی کامیابی کے لیے اگلے مراحل میں گروپس کی جانب سے دی گئی سفارشات اور تجاویز کو عملی شکل دینا ضروری ہو گا۔ حکومت پاکستان اس امر پر بھرپور توجہ دے گی کہ انفراسٹرکچر کی بہتری، مؤثر کنیکٹیویٹی اور کسٹمز آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نہ صرف ملک کے اندرونی تجارتی روابط مستحکم ہوں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط تجارتی مرکز کے طور پرابھرے۔
وفاقی وزیر کے کہا کہ آئندہ اجلاس میں گروپس کی رپورٹ اور ہوم ورک کی روشنی میں عملی اقدامات کا خاکہ مرتب کیا جائے گا تاکہ منصوبے کو بروقت مکمل کیا جا سکے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، چین اور جنوبی ایشیا کو ملانے میں اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ کنیکٹیویٹی پاکستان کو ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سی پیک (چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور) کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان __ چین اور وسیع تر خطے بشمول یورپ کے درمیان تجارت کا اہم راستہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے تحت کی گئی سرمایہ کاری اور ملک کے اندر بنائے گئے انفراسٹرکچر کو بہترین انداز میں استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین میں لاگت اور مؤثر کنیکٹیویٹی کلیدی عناصر ہیں اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان میں کنیکٹیویٹی نہ صرف موجود ہو بلکہ مؤثر بھی ہو۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کئی ممالک کے درمیان کنیکٹیویٹی تو موجود ہے، لیکن کسٹمز کلیئرنس میں درپیش رکاوٹوں کے باعث اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ہمیں کنیکٹیوٹی میں حائل ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو ملکی تجارت کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں تاکہ پاکستان اپنی سٹریٹیجک پوزیشن کا بہترین فائدہ اٹھا سکے۔
وفاقی وزیر نے ورکنگ گروپ کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ سپلائی چین کی لاگت اور فوائد کا تفصیلی جائزہ لیں اور ان خامیوں کی نشاندہی کریں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر اداروں کی جانب سے کیے گئے پچھلے مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں آپریشنل چیلنجز کی نشاندہی کی گئی تھی۔ وفاقی وزیر نے مختلف ٹرانسپورٹ روٹس کے ساتھ منسلک لاگتوں کا موازنہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس سالوں میں، اگر پاکستان کنیکٹیویٹی کوریڈورز کو مکمل کر لیں تو پاکستان کی معیشت میں نمایاں ترقی ہو سکتی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جو ممالک ترقی کرتے ہیں، وہ دس سے بیس سال آگے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں ہر منصوبے کو سیاسی عدم استحکام کا نشانہ بنایا گیا۔ کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ ملک میں اب امن، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے اصولوں پر عمل درآمد ہوگا۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ پالیسوں پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان عالمی تجارت میں نمایاں حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
جناب احسن اقبال نے کہا کہ ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی منصوبے کی کامیابی کے لیے اگلے مراحل میں گروپس کی جانب سے دی گئی سفارشات اور تجاویز کو عملی شکل دینا ضروری ہو گا۔ حکومت پاکستان اس امر پر بھرپور توجہ دے گی کہ انفراسٹرکچر کی بہتری، مؤثر کنیکٹیویٹی اور کسٹمز آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ نہ صرف ملک کے اندرونی تجارتی روابط مستحکم ہوں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط تجارتی مرکز کے طور پرابھرے۔
وفاقی وزیر کے کہا کہ آئندہ اجلاس میں گروپس کی رپورٹ اور ہوم ورک کی روشنی میں عملی اقدامات کا خاکہ مرتب کیا جائے گا تاکہ منصوبے کو بروقت مکمل کیا جا سکے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔