وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں "میر ہزار خان مری" کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کیا۔ اس تقریب میں نمایاں شخصیات، بشمول گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب سرفراز بگٹی، خالد فرید، اور بلوچستان صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین موجود تھے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بلوچستان کے عظیم سپوت میر ہزار خان مری کی زندگی اور ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص کی زندگی کو بیان کرتی ہے جس نے نہ صرف اپنے لوگوں کے لئے جدوجہد کی بلکہ ان سازشوں کا بھی سامنا کیا جو بلوچستان کے نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی جا رہی تھیں۔ وفاقی وزیر نے میر ہزار خان مری کی سیاسی بصیرت اور مفاہمت کی جانب ان کی واپسی کو ایک قابل تقلید عمل قرار دیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو نہ کسی نسل، زبان یا جغرافیہ کی بنیاد پر قائم ہوا بلکہ ایک مضبوط نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وجود اور اس کی 77 سالہ تاریخ ایک نوزائیدہ ریاست کی مانند ہے جو مختلف بحرانوں کا سامنا کر کے مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ کہا کہ پاکستان دشمنوں کی نظروں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔
بلوچستان کی اسٹریٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ ہوتا تو آج اس کا حال افغانستان جیسا ہو سکتا تھا جہاں بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے بلوچستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں بار بار ناکام ہو چکی ہیں، اور بلوچستان کے نوجوان ان سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 2013 سے 2018 تک کی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا اور متعدد اہم منصوبے شروع کیے جن کا مقصد صوبے کی پسماندگی کو دور کرنا تھا۔
پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت نے کراچی-گوادر مکران کوسٹل ہائی وے، گوادر-کوئٹہ شاہراہ اور مکران کی ساحلی سڑکوں سمیت ہزاروں کلومیٹر طویل شاہراہوں کا جال بچھایا، جس سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی ممکن ہوئی ہے۔
گوادر سے کوئٹہ تک 650 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر مکمل کی گئی جس نے بلوچستان کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنایا اور دورانیے کو دنوں سے گھنٹوں میں تبدیل کیا۔ کہا ایف ڈبلیو او کے 43 جوانوں نے سڑک کی تعمیر کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس سے ان عناصر کی حقیقت سامنے آتی ہے جو بلوچستان کی ترقی کے مخالف ہیں۔
تعلیمی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت نے جامع اقدامات کیے۔ 5,000 اسکالرشپس فراہم کیے گئے تاکہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے نوجوان پنجاب اور اسلام آباد کی بہترین یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
پروفیسر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں نوشکی، پشین، ور، بزدار، گوادر اور تربت میں یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی، جبکہ صوبے میں متعدد دیگر کیمپسز بھی کھولے گئے تاکہ نوجوانوں کو اکیسویں صدی کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اسی طرح خضدار میڈیکل کالج اور خضدار انجینئرنگ کالج کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ صوبے میں ماہر انجینئرز اور ڈاکٹرز میسر ہوں۔ اسی طرح گوادر یونیورسٹی کیمپس قائم کیا گیا تاکہ مقامی نوجوان نہ صرف تکنیکی مہارتیں حاصل کریں بلکہ اعلیٰ سطح کی ملازمتوں کے لئے تیار ہو سکیں۔
پانی اور بجلی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے پانی اور بجلی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شادی کور ڈیم جو 2008 سے التوا کا شکار تھا، 2016 میں اس کی تکمیل کے لئے فنڈز فراہم کیے گئے، جس سے گوادر کے لیے پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اسی طرح ایران سے گوادر تک بجلی کی ترسیل کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا جس سے گوادر میں بجلی کی قلت کا خاتمہ ہوا۔
وفاقی وزیر نے گوادر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر سی پیک کا مرکز ہے اور اس کی بندرگاہ کو مکمل فعال کرنے کے لیے ڈریجنگ کا کام کیا گیا، جس پر 4 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئی۔گوادر پورٹ کی گہرائی میں کمی کے بعد حکومت نے دوبارہ اس کو بحال کیا، جس سے بندرگاہ کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ مزید براں چھ لاکھ ٹن کارگو کو گوادر پورٹ سے روانہ کیا گیا جو کہ پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پبلک سیکٹر کی 50 فیصد پروکیورمنٹ گوادر پورٹ کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے بلوچستان کی مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ 2024 کے ترقیاتی بجٹ میں بلوچستان کے لیے 130 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے بلوچستان میں تعلیم، صحت، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے ان عناصر کی نشاندہی کی جو بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں اور سڑکوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اہم منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق دینا چاہتے ہیں، وہ دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل اسکلز فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ 21ویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں اور صوبے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
آخر میں، پروفیسر احسن اقبال نے کتاب "میر ہزار خان مری" کے مصنفین عماد مسعود اور خالد فرید کو اس اہم کاوش پر مبارکباد پیش کی اور تجویز دی کہ اس کتاب کو بلوچی زبان میں بھی ترجمہ کیا جائے تاکہ صوبے کے زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم میں کوئی کمی نہیں ہے اور جلد ہی صوبہ پاکستان کا خوشحال ترین علاقہ بنے گا۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بلوچستان کے عظیم سپوت میر ہزار خان مری کی زندگی اور ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص کی زندگی کو بیان کرتی ہے جس نے نہ صرف اپنے لوگوں کے لئے جدوجہد کی بلکہ ان سازشوں کا بھی سامنا کیا جو بلوچستان کے نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی جا رہی تھیں۔ وفاقی وزیر نے میر ہزار خان مری کی سیاسی بصیرت اور مفاہمت کی جانب ان کی واپسی کو ایک قابل تقلید عمل قرار دیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جو نہ کسی نسل، زبان یا جغرافیہ کی بنیاد پر قائم ہوا بلکہ ایک مضبوط نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وجود اور اس کی 77 سالہ تاریخ ایک نوزائیدہ ریاست کی مانند ہے جو مختلف بحرانوں کا سامنا کر کے مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ کہا کہ پاکستان دشمنوں کی نظروں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔
بلوچستان کی اسٹریٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ ہوتا تو آج اس کا حال افغانستان جیسا ہو سکتا تھا جہاں بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے بلوچستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں بار بار ناکام ہو چکی ہیں، اور بلوچستان کے نوجوان ان سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 2013 سے 2018 تک کی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا اور متعدد اہم منصوبے شروع کیے جن کا مقصد صوبے کی پسماندگی کو دور کرنا تھا۔
پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت نے کراچی-گوادر مکران کوسٹل ہائی وے، گوادر-کوئٹہ شاہراہ اور مکران کی ساحلی سڑکوں سمیت ہزاروں کلومیٹر طویل شاہراہوں کا جال بچھایا، جس سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی ممکن ہوئی ہے۔
گوادر سے کوئٹہ تک 650 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر مکمل کی گئی جس نے بلوچستان کے اندر نقل و حرکت کو بہتر بنایا اور دورانیے کو دنوں سے گھنٹوں میں تبدیل کیا۔ کہا ایف ڈبلیو او کے 43 جوانوں نے سڑک کی تعمیر کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس سے ان عناصر کی حقیقت سامنے آتی ہے جو بلوچستان کی ترقی کے مخالف ہیں۔
تعلیمی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت نے جامع اقدامات کیے۔ 5,000 اسکالرشپس فراہم کیے گئے تاکہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے نوجوان پنجاب اور اسلام آباد کی بہترین یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔
پروفیسر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں نوشکی، پشین، ور، بزدار، گوادر اور تربت میں یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی، جبکہ صوبے میں متعدد دیگر کیمپسز بھی کھولے گئے تاکہ نوجوانوں کو اکیسویں صدی کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اسی طرح خضدار میڈیکل کالج اور خضدار انجینئرنگ کالج کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ صوبے میں ماہر انجینئرز اور ڈاکٹرز میسر ہوں۔ اسی طرح گوادر یونیورسٹی کیمپس قائم کیا گیا تاکہ مقامی نوجوان نہ صرف تکنیکی مہارتیں حاصل کریں بلکہ اعلیٰ سطح کی ملازمتوں کے لئے تیار ہو سکیں۔
پانی اور بجلی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے پانی اور بجلی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شادی کور ڈیم جو 2008 سے التوا کا شکار تھا، 2016 میں اس کی تکمیل کے لئے فنڈز فراہم کیے گئے، جس سے گوادر کے لیے پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اسی طرح ایران سے گوادر تک بجلی کی ترسیل کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا جس سے گوادر میں بجلی کی قلت کا خاتمہ ہوا۔
وفاقی وزیر نے گوادر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر سی پیک کا مرکز ہے اور اس کی بندرگاہ کو مکمل فعال کرنے کے لیے ڈریجنگ کا کام کیا گیا، جس پر 4 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئی۔گوادر پورٹ کی گہرائی میں کمی کے بعد حکومت نے دوبارہ اس کو بحال کیا، جس سے بندرگاہ کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ مزید براں چھ لاکھ ٹن کارگو کو گوادر پورٹ سے روانہ کیا گیا جو کہ پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
جناب احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پبلک سیکٹر کی 50 فیصد پروکیورمنٹ گوادر پورٹ کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے بلوچستان کی مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ 2024 کے ترقیاتی بجٹ میں بلوچستان کے لیے 130 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے بلوچستان میں تعلیم، صحت، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے ان عناصر کی نشاندہی کی جو بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں اور سڑکوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اہم منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق دینا چاہتے ہیں، وہ دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل اسکلز فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ 21ویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں اور صوبے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
آخر میں، پروفیسر احسن اقبال نے کتاب "میر ہزار خان مری" کے مصنفین عماد مسعود اور خالد فرید کو اس اہم کاوش پر مبارکباد پیش کی اور تجویز دی کہ اس کتاب کو بلوچی زبان میں بھی ترجمہ کیا جائے تاکہ صوبے کے زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم میں کوئی کمی نہیں ہے اور جلد ہی صوبہ پاکستان کا خوشحال ترین علاقہ بنے گا۔