Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے گیارہویں پارلیمانی فورم برائے آبادی کے انعقاد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی

September 25, 2024
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے گیارہویں پارلیمانی فورم برائے آبادی کے انعقاد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے گیارہویں پارلیمانی فورم برائے آبادی کے انعقاد میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام جماعتوں کے مابین اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا، اور کہا کہ ملک کی ترقی کا انحصار اجتماعی اور مشترکہ اقدامات پر ہے۔

وزیرِ منصوبہ بندی نے پاپولیشن کونسل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورم تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر آبادی کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر کھل کر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں آبادی کے تیز رفتار اضافے کو سنگین مسئلہ قرار دیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

احسن اقبال نے حالیہ ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی آبادی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے ملک کے وسائل پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا کے تیس ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور ایشیا میں اس کا پہلا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی نے پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی اور وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اور پاکستان کو بھی اسی طرز پر مؤثر حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ 2017 میں پاکستان کی آبادی کی شرح 2.4 فیصد تھی، جو اب دوگنی ہو چکی ہے، اور یہ صورتحال ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

احسن اقبال نے تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کو آبادی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس، ٹی بی، ذیابیطس اور پولیو جیسے امراض کے زیادہ کیسز باعثِ تشویش ہیں۔ مزید برآں، ڈھائی کروڑ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، اور انہیں تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے ساتھ معیاری تعلیم کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں معیار پر مبنی تعلیمی اور صحت کے نظام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ایک صحت مند، ہنر مند اور تعلیم یافتہ قوم تیار کی جا سکے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔ اس سلسلے میں عوامی نمائندوں کو قومی اور صوبائی سطح پر بھرپور آگاہی پیدا کرنی چاہیے۔

وزیر نے خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند ماں ہی ایک بہتر اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی نمائندوں نے ملک میں آبادی کی روک تھام اور قومی ترقی کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کی