پاکستان کو ماضی میں طویل لوڈشیڈنگ، بجلی کی کمی اور مہنگی بجلی جیسی مشکلات کا سامنا تھا, احسن اقبال
حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کے قیام کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے ،احسن اقبال
لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہے، اور حکومت توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے سنجیدہ اور خلوص نیت کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان کو ماضی میں طویل لوڈشیڈنگ، بجلی کی کمی اور مہنگی بجلی جیسی مشکلات کا سامنا تھا، جس نے ہماری صنعتوں اور عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ تاہم، ہماری حکومت نے سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کے تحت بڑے پیمانے پر توانائی کے منصوبے شروع کیے جو نہ صرف توانائی کے بحران کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوئے بلکہ ملک کی معاشی ترقی کا سنگ بنیاد بھی بنے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے اتوار کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ایشیا انرجی ٹرانزیشن سمٹ 2024ء کے دوسرے روز بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ملک کے معروف صنعتکار، تاجر، اور توانائی کے ماہرین موجود تھے، جن میں رزاق داؤد، نفیسہ شاہ، شاہ جہاں مرزا، ڈاکٹر شکیل ساجد، اور مصطفیٰ امجد سمیت ملکی و غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد شامل تھی۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبے ملک کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں۔ توانائی کے منصوبے، جن میں ہائیڈل پاور پراجیکٹس اور سولر انرجی کے منصوبے شامل ہیں، پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں عدم توازن ایک بڑا چیلنج رہا ہے، لیکن ہماری حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت بجلی کی سپلائی میں بہتری آئی ہے اور ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022ء میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سیلاب نے ملک کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور پاکستان میں ماحول دوست توانائی منصوبوں کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے۔
سی پیک کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ سی پیک کے توانائی منصوبوں کی بدولت پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے قبل ملک میں روزانہ بیس گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، جس نے ہماری معیشت کو کمزور کیا اور صنعتی ترقی کو متاثر کیا۔ آج، سی پیک کے تحت ماحول دوست کوئلے، شمسی اور پن بجلی کے منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں جو توانائی کے شعبے میں مستقل بہتری کا باعث بن رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایشیا دنیا کی نصف آبادی کا مرکز ہے اور جلد ہی ایشیا دنیا کے نصف سے زیادہ جی ڈی پی کا حامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے منصوبوں میں جدت لانے اور ان میں سرمایہ کاری کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم توانائی کے شعبے میں مزید ترقی کر سکیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع پر کام جاری ہے اور تاجکستان کے ساتھ کاسا 1000 منصوبہ اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل صرف پاکستان نہیں، بلکہ پورے ایشیا کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ اس لیے ایشیائی ممالک کو باہمی تعاون اور اشتراک سے اپنے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک، جنہوں نے ماحولیاتی خرابیوں میں اہم کردار ادا کیا، اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر تیار نہیں ہیں، اس لیے ہمیں اپنے وسائل اور باہمی اشتراک سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے لیے تمام ممالک کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، کیونکہ خطے کی بہتری کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کے قیام کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کی قلت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور پاکستان کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال کو شیلڈ پیش کی گئی۔
حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کے قیام کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے ،احسن اقبال
لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہے، اور حکومت توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے سنجیدہ اور خلوص نیت کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان کو ماضی میں طویل لوڈشیڈنگ، بجلی کی کمی اور مہنگی بجلی جیسی مشکلات کا سامنا تھا، جس نے ہماری صنعتوں اور عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ تاہم، ہماری حکومت نے سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کے تحت بڑے پیمانے پر توانائی کے منصوبے شروع کیے جو نہ صرف توانائی کے بحران کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوئے بلکہ ملک کی معاشی ترقی کا سنگ بنیاد بھی بنے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے اتوار کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ایشیا انرجی ٹرانزیشن سمٹ 2024ء کے دوسرے روز بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ملک کے معروف صنعتکار، تاجر، اور توانائی کے ماہرین موجود تھے، جن میں رزاق داؤد، نفیسہ شاہ، شاہ جہاں مرزا، ڈاکٹر شکیل ساجد، اور مصطفیٰ امجد سمیت ملکی و غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد شامل تھی۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبے ملک کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں۔ توانائی کے منصوبے، جن میں ہائیڈل پاور پراجیکٹس اور سولر انرجی کے منصوبے شامل ہیں، پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں عدم توازن ایک بڑا چیلنج رہا ہے، لیکن ہماری حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت بجلی کی سپلائی میں بہتری آئی ہے اور ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022ء میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سیلاب نے ملک کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں اور پاکستان میں ماحول دوست توانائی منصوبوں کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے۔
سی پیک کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ سی پیک کے توانائی منصوبوں کی بدولت پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے قبل ملک میں روزانہ بیس گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، جس نے ہماری معیشت کو کمزور کیا اور صنعتی ترقی کو متاثر کیا۔ آج، سی پیک کے تحت ماحول دوست کوئلے، شمسی اور پن بجلی کے منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں جو توانائی کے شعبے میں مستقل بہتری کا باعث بن رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایشیا دنیا کی نصف آبادی کا مرکز ہے اور جلد ہی ایشیا دنیا کے نصف سے زیادہ جی ڈی پی کا حامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے منصوبوں میں جدت لانے اور ان میں سرمایہ کاری کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم توانائی کے شعبے میں مزید ترقی کر سکیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع پر کام جاری ہے اور تاجکستان کے ساتھ کاسا 1000 منصوبہ اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل صرف پاکستان نہیں، بلکہ پورے ایشیا کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ اس لیے ایشیائی ممالک کو باہمی تعاون اور اشتراک سے اپنے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک، جنہوں نے ماحولیاتی خرابیوں میں اہم کردار ادا کیا، اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر تیار نہیں ہیں، اس لیے ہمیں اپنے وسائل اور باہمی اشتراک سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کے لیے تمام ممالک کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، کیونکہ خطے کی بہتری کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے دوستانہ ماحول کے قیام کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کی قلت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور پاکستان کو ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال کو شیلڈ پیش کی گئی۔