ہفتہ کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں ایک اعلی سطحی میٹنگ ہوئی جس کا مقصد غزہ اور لبنان میں جنگ سے متاثرہ عوام کے لیے پاکستان کی جانب سے جاری امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات کا جائزہ لینا اوردر پیش مسائل سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا تھا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔میٹنگ میں پرائم منسٹر آفس، وزارت خارجہ اور این ڈی ایم اے کے اعلی افسران موجود تھے جبکہ لبنان، اردن اور عراق کے سفیروں نے زوم لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
میٹنگ کے دوران غزہ اور لبنان کے عوام کی ضروریات اور امدادی سامان کی ترسیل سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ لبنان کے سفیر نے حکومت پاکستان کی طرف سے فراہم کی جانے والی بروقت امداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان پہلے تین ممالک میں سے ایک ہے جس نے اس کڑے وقت میں لبنان کی عوام کوامدادفراہم کی اور مزید امداد کی روانگی کے لیے کوشاں ہے۔
اب تک پاکستان نے غزہ اور لبنان کے1251ٹن امدادی سامان پر مشتمل 12کھیپیں غزہ اور لبنان کے لیے روانہ کی جا چکی ہیں جن میں سے 10کھیپیں غزہ، جب کہ دو لبنان بھیجی گئیں۔ امدادی سامان میں ضروری اشیاء جیسے خیمے، ترپال، فوڈ پیک، موسم سرما کے بستر، ادویات، حفظان صحت کی کٹس اور متاثرہ افراد کے لیے دیگر ضروری سامان شامل تھا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے خاص طور پر لبنان اور غزہ کی عوام کو امدادفراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔اور انہی ہدایات پر، ''وزیراعظم ریلیف فنڈ برائے غزہ اور لبنان'' قائم کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی عوام کی جانب سے اپنے ضرورت مند بھائیوں اور بہنوں کے لیے عطیات بھیجنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
لبنان، فلسطین اور شام میں تعینات پاکستانی سفیروں نے وفاقی وزیراحسن اقبال کووہاں موجود فلاحی اداروں اور متاثرین کو فراہم کی جانے والی امداد اور طریقہ کار پر بریفنگ بھی دی۔ وفاقی وزیرنے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک معقول ترسیلات کاماڈل تیار کرے جس میں ہوائی اورزمینی راستوں کے ذریعے امداد کی موئثر انداز میں بر وقت ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے غزہ اور لبنان میں متاثر ین کو ضروری اشیاء کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کے لیے خوراک اور نان فوڈ آئٹمزسپلائرز کے ساتھ ملکر امداد کی فراہمی کے سلسلے کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
میٹنگ کا اختتام غزہ اور لبنان کے لوگوں کے لیے بروقت اور موثر ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ ہوا
اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔میٹنگ میں پرائم منسٹر آفس، وزارت خارجہ اور این ڈی ایم اے کے اعلی افسران موجود تھے جبکہ لبنان، اردن اور عراق کے سفیروں نے زوم لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
میٹنگ کے دوران غزہ اور لبنان کے عوام کی ضروریات اور امدادی سامان کی ترسیل سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ لبنان کے سفیر نے حکومت پاکستان کی طرف سے فراہم کی جانے والی بروقت امداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان پہلے تین ممالک میں سے ایک ہے جس نے اس کڑے وقت میں لبنان کی عوام کوامدادفراہم کی اور مزید امداد کی روانگی کے لیے کوشاں ہے۔
اب تک پاکستان نے غزہ اور لبنان کے1251ٹن امدادی سامان پر مشتمل 12کھیپیں غزہ اور لبنان کے لیے روانہ کی جا چکی ہیں جن میں سے 10کھیپیں غزہ، جب کہ دو لبنان بھیجی گئیں۔ امدادی سامان میں ضروری اشیاء جیسے خیمے، ترپال، فوڈ پیک، موسم سرما کے بستر، ادویات، حفظان صحت کی کٹس اور متاثرہ افراد کے لیے دیگر ضروری سامان شامل تھا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے خاص طور پر لبنان اور غزہ کی عوام کو امدادفراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔اور انہی ہدایات پر، ''وزیراعظم ریلیف فنڈ برائے غزہ اور لبنان'' قائم کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی عوام کی جانب سے اپنے ضرورت مند بھائیوں اور بہنوں کے لیے عطیات بھیجنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
لبنان، فلسطین اور شام میں تعینات پاکستانی سفیروں نے وفاقی وزیراحسن اقبال کووہاں موجود فلاحی اداروں اور متاثرین کو فراہم کی جانے والی امداد اور طریقہ کار پر بریفنگ بھی دی۔ وفاقی وزیرنے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک معقول ترسیلات کاماڈل تیار کرے جس میں ہوائی اورزمینی راستوں کے ذریعے امداد کی موئثر انداز میں بر وقت ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے غزہ اور لبنان میں متاثر ین کو ضروری اشیاء کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کے لیے خوراک اور نان فوڈ آئٹمزسپلائرز کے ساتھ ملکر امداد کی فراہمی کے سلسلے کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
میٹنگ کا اختتام غزہ اور لبنان کے لوگوں کے لیے بروقت اور موثر ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ ہوا