9 نومبر 2024
لاہور: وفاقی وزیر ترقی، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ علمی، سائنسی اور فکری جدوجہد سے ہی ہم معاشی ترقی حاصل کر سکتے ہیں، ہم بحیثیت مسلم امہ اس وقت معاشی نہیں بلکہ تہذیبی بحران کا شکار ہیں، کیا وجہ ہے کہ اس وقت دو ارب کی مسلمان آبادی کسمپرسی اور ظلم کا شکار ہے لیکن ایک کڑوڑ آبادی کے اسرائیل کی علمی، تحقیقی اور سائنسی خدمات 56 مسلمان ممالک سے زیادہ ہے. اسلامی تہذیب کے گولڈن دور میں علم و تحقیق کے مراکز اندلس، غرناطہ اور بغداد تھے لیکن آج ہم بطور مسلمان علم و تحقیق میں کوئی مقام نہیں رکھتے یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے اور اقبال نے اپنے کلام میں علم، مشاہدے اور تحقیق کا درس دیا اور یہی تلقین قرآن مجید میں کی گئی.
ان خیالات کا اظہار انہوں پنجاب یونیورسٹی میں یوم اقبال کی مناسبت سے "قومی ترقی کا سفر: فکر اقبال کی روشنی میں" کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوے کیا انہوں کے کہا کہ اقبال نے اپنے کلام میں مسلمان نے نشتر تحقیق کند ہونے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں، امریکہ اپنے اسلحہ کی وجہ سے سپر پاور نہیں بلکہ اپنی تحقیق اور سائنسی ایجادات کی وجہ سے دنیا کی سپر پاور ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کی لائبریریوں اور لیبارٹریز کو پانج بجے تالے لگ جاتے ہیں جبکہ مغرب کے تعلیمی اداروں کی لائبریریز اور لیبارٹریز ساری رات کھلی رہتی ہیں. پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال نے نہ صرف علم اور عقل کو جوڑا بلکہ اسلام کی حقیقی روح کے مطابق عقل اور عشق کو بھی جوڑا. انہوں نے کہا کہ اقبال کا سارا کلام ہمیں خودی پر یقین، بامقصد زندگی، صلاحیت، کرادر اور محنت کا درس دیتا ہے وفاقی وزیر نے کہا کہ آزادی تب ملتی ہے جب انسان کی فکر آزاد ہوتی ہے اور فکر انسان کو علم، تحقیق اور مشاہدات سے حاصل ہوتی ہے.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے قائد اعظم کو اپنے سترہ خطوط میں بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلمانان برصغیر اس وقت اپنے معاشی حقوق نہیں حاصل کر سکتے جب تک علیحدہ وطن حاصل نہیں کرتے. انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر مضبوط ملک ہی مضبوط قوم کی ضمانت ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہم ایک قوم بن ملک کی ترقی اور معیشیت کے لیے محنت کریں ان حالات میں ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، تخریبی اور نفرت کی سوچ کی بجائے تعمیری اور مضبت سوچ کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اقبال کی فکر ترقی کا ایٹم بم ہے. ایک لیڈر نے ملک کے اندر نفرت اور چور، ڈاکو کے نعرے لگوانے کے علاوہ چار سالوں میں کچھ نہیں کیا، ہمارا سوچ اور نظریے کا اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے اور یہی اقبال کی فکر تھی. سیمینار نے موضوع کی مناسب سے مختلف مقررین نے خطاب بھی کیا. الرازی ھال میں منعقدہ سیمینار میں فیکلٹی ممبران، اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی
لاہور: وفاقی وزیر ترقی، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ علمی، سائنسی اور فکری جدوجہد سے ہی ہم معاشی ترقی حاصل کر سکتے ہیں، ہم بحیثیت مسلم امہ اس وقت معاشی نہیں بلکہ تہذیبی بحران کا شکار ہیں، کیا وجہ ہے کہ اس وقت دو ارب کی مسلمان آبادی کسمپرسی اور ظلم کا شکار ہے لیکن ایک کڑوڑ آبادی کے اسرائیل کی علمی، تحقیقی اور سائنسی خدمات 56 مسلمان ممالک سے زیادہ ہے. اسلامی تہذیب کے گولڈن دور میں علم و تحقیق کے مراکز اندلس، غرناطہ اور بغداد تھے لیکن آج ہم بطور مسلمان علم و تحقیق میں کوئی مقام نہیں رکھتے یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے اور اقبال نے اپنے کلام میں علم، مشاہدے اور تحقیق کا درس دیا اور یہی تلقین قرآن مجید میں کی گئی.
ان خیالات کا اظہار انہوں پنجاب یونیورسٹی میں یوم اقبال کی مناسبت سے "قومی ترقی کا سفر: فکر اقبال کی روشنی میں" کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوے کیا انہوں کے کہا کہ اقبال نے اپنے کلام میں مسلمان نے نشتر تحقیق کند ہونے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں، امریکہ اپنے اسلحہ کی وجہ سے سپر پاور نہیں بلکہ اپنی تحقیق اور سائنسی ایجادات کی وجہ سے دنیا کی سپر پاور ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کی لائبریریوں اور لیبارٹریز کو پانج بجے تالے لگ جاتے ہیں جبکہ مغرب کے تعلیمی اداروں کی لائبریریز اور لیبارٹریز ساری رات کھلی رہتی ہیں. پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال نے نہ صرف علم اور عقل کو جوڑا بلکہ اسلام کی حقیقی روح کے مطابق عقل اور عشق کو بھی جوڑا. انہوں نے کہا کہ اقبال کا سارا کلام ہمیں خودی پر یقین، بامقصد زندگی، صلاحیت، کرادر اور محنت کا درس دیتا ہے وفاقی وزیر نے کہا کہ آزادی تب ملتی ہے جب انسان کی فکر آزاد ہوتی ہے اور فکر انسان کو علم، تحقیق اور مشاہدات سے حاصل ہوتی ہے.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے قائد اعظم کو اپنے سترہ خطوط میں بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلمانان برصغیر اس وقت اپنے معاشی حقوق نہیں حاصل کر سکتے جب تک علیحدہ وطن حاصل نہیں کرتے. انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر مضبوط ملک ہی مضبوط قوم کی ضمانت ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہم ایک قوم بن ملک کی ترقی اور معیشیت کے لیے محنت کریں ان حالات میں ہمیں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، تخریبی اور نفرت کی سوچ کی بجائے تعمیری اور مضبت سوچ کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اقبال کی فکر ترقی کا ایٹم بم ہے. ایک لیڈر نے ملک کے اندر نفرت اور چور، ڈاکو کے نعرے لگوانے کے علاوہ چار سالوں میں کچھ نہیں کیا، ہمارا سوچ اور نظریے کا اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے اور یہی اقبال کی فکر تھی. سیمینار نے موضوع کی مناسب سے مختلف مقررین نے خطاب بھی کیا. الرازی ھال میں منعقدہ سیمینار میں فیکلٹی ممبران، اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی