Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نسٹ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے ویمن انٹرپرینیورشپ کانفرنس "ویکون 2024" سے خطاب کیا۔

November 14, 2024
وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نسٹ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے ویمن انٹرپرینیورشپ کانفرنس "ویکون 2024" سے خطاب کیا۔
اسلام آباد (رپورٹر) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ویمن انٹرپرینیورشپ کانفرنس "ویکون 2024" سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نسل نے تختی سے فائیو جی کا سفر طے کر کے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نالج اور انوویشن کا دور ہے، جس میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور پاکستان کے نوجوان انٹرپرینیور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

احسن اقبال نے نوجوان لڑکیوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جدید شعبوں میں بھرپور انداز سے آگے بڑھ رہی ہیں اور دنیا کی ممتاز یونیورسٹیوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے نارووال جیسے پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی کی ترقی اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد پر فخر کا اظہار کیا۔

وزیر منصوبہ بندی نے پاکستان کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا، "فائیو ایز ماڈل" کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس فریم ورک میں برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان، گرین توانائی، ماحولیاتی تحفظ، اور ترقی کے مساویانہ مواقع کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت کے لیے خصوصی پروگرامز شروع کرنے چاہئیں۔

احسن اقبال نے ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک نے خواتین کی شمولیت کے ذریعے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک ڈگری حاصل کرنے کے باوجود پاکستان میں رہ کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جو اپنے ملک کے لیے جذبہ رکھتا ہے، وہ یہاں رہ کر ہی اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے 94 ہزار انڈیکس عبور کر لیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کا مظہر ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ 2013 میں ملک کو بحران سے نکالنے کا چیلنج قبول کیا اور کامیابی حاصل کی، مگر 2018 میں یوٹرن کی پالیسیوں نے ترقی کو پیچھے دھکیل دیا۔ دوست ممالک پر الزامات اور بے بنیاد باتوں نے ہمارے تعلقات کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک بار پھر اپریل 2022 میں بحران کا سامنا کرنا پڑا، مگر امن، سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات کے ذریعے ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اسی جذبے سے محنت جاری رکھی گئی اور سیاسی استحکام قائم رہا تو اگلے چند سالوں میں پاکستان ترقی کی منازل طے کرے گا۔