15 نومبر 2024
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جدت کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے ،ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم تعلیمی نظام اور صحت کے میدان میں پیچھے ہیں،ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے ہم ایک ہو کر کام کریں گے تو ترقی ممکن ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ و ترقی کے موضوع پر گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جدت کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے ، ٹیکنالوجی کی نئی تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت کو جدید انداز میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم تعلیمی نظام اور صحت کے میدان میں پیچھے ہیں،ہم ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں ڈیفالٹ کا خطرہ تھا جس کو احسن انداز میں ختم کیا گیا، ہم نے سیاسی قربانی دے کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، اب آگے کا راستہ ہم نے غیر معمولی انداز میں طے کرنا ہے، یہ راستہ ایکسپورٹ میں بڑھوتری سے طے ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنی برآمدات سو ارب ڈالر پر لے کر جانی ہیں،اگر پاکستان کو 2030تک ون ٹریلین کی اکانومی بنانا ہے تو ہمیں 8سے 9 فیصد کے ساتھ ترقی کرنا ہو گی، اگر ہم نے اپنے نظام کو مربوط نہ کیا تو اربوں روپے کی انویسٹمنٹ ضائع ہو جائے گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحقیقی صلاحیت کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنا ہے، ہم دنیا میں پانچواں بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہیں لیکن ڈیری پراڈکٹ سٹور میں نظر نہیں آتیں، ہمارے پاس ہسپتال اور ڈاکٹرز موجود ہیں، ہمارے ملک کے اندر پولٹری انڈسٹری کا کلسٹر ہے لیکن ایکسپورٹ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنسدان اپنے کردار کو سمجھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں،ہم نے اگر دنیا کے ساتھ ہم قدم ہونا ہے تو ہمیں بغداد اور اندلس کے سائنسدانوں کے انداز میں کام کرنا ہوگا۔
پروگرام کا آغاز پلاننگ کمیشن کے ممبر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ کے ایک جامع خطاب سے ہوا۔ انہوں نے پاکستان کے انوویشن ایکو سسٹم کا تفصیلی جائزہ فراہم کیا، جس میں کمرشلائزیشن، وینچر کیپیٹل سپورٹ، اور صنعتی تعاون میں فرق کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے وسائل کو کلسٹر کرنے، سول ملٹری ریسرچ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے فنڈنگ کے طریقہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر ایم اسلم بیگ نے پالیسی پر موثر عمل درآمد اور تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر شوکت حمید، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے فیلو اور ایک معزز آپٹیکل فزیکسٹ، نے ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے سائنسی پیشرفت کو بروئے کار لانے کے بارے میں بصیرت کا اشتراک کیا، جبکہ ڈاکٹر صہیب حسن، ممبر پرائیویٹ سیکٹر اینڈ انڈسٹریل گروتھ وزارت منصوبہ بندی نے تبدیلی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ صنعت اور اکیڈمی کے روابط کا۔ ڈاکٹر حسن نے کم قیمت کی برآمدات سے آگے بڑھنے اور بااختیار پبلک پرائیویٹ تعاون کے ذریعے اختراعی برانڈز کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر طارق وحید، SZABIST کے سوشل سائنس کے شعبہ کے سربراہ، صحت کی تحقیق اور ڈیجیٹل صحت کے اقدامات میں جدت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہوں نے آلات جراحی اور دواسازی جیسے شعبوں میں پاکستان کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر زور دیا، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہو گا اور صحت کی عالمی کوریج حاصل ہو گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے تحقیق اور تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
کانفرنس کا مقصد پاکستان کے لیے ایک اختراعی اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر کے لیے درکار اسٹریٹجک فریم ورک اور باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کو حل کرنا تھا۔ یہ اقدام سائنس، ٹیکنالوجی، اور انجینئرنگ کو قوم کی ترقی اور ترقی کے انجن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو متحد کرنے کی کوشش کی نمائندگی کرتا ہے
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جدت کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے ،ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم تعلیمی نظام اور صحت کے میدان میں پیچھے ہیں،ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے ہم ایک ہو کر کام کریں گے تو ترقی ممکن ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ و ترقی کے موضوع پر گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جدت کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے ، ٹیکنالوجی کی نئی تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت کو جدید انداز میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم تعلیمی نظام اور صحت کے میدان میں پیچھے ہیں،ہم ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں ڈیفالٹ کا خطرہ تھا جس کو احسن انداز میں ختم کیا گیا، ہم نے سیاسی قربانی دے کر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، اب آگے کا راستہ ہم نے غیر معمولی انداز میں طے کرنا ہے، یہ راستہ ایکسپورٹ میں بڑھوتری سے طے ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنی برآمدات سو ارب ڈالر پر لے کر جانی ہیں،اگر پاکستان کو 2030تک ون ٹریلین کی اکانومی بنانا ہے تو ہمیں 8سے 9 فیصد کے ساتھ ترقی کرنا ہو گی، اگر ہم نے اپنے نظام کو مربوط نہ کیا تو اربوں روپے کی انویسٹمنٹ ضائع ہو جائے گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تحقیقی صلاحیت کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنا ہے، ہم دنیا میں پانچواں بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہیں لیکن ڈیری پراڈکٹ سٹور میں نظر نہیں آتیں، ہمارے پاس ہسپتال اور ڈاکٹرز موجود ہیں، ہمارے ملک کے اندر پولٹری انڈسٹری کا کلسٹر ہے لیکن ایکسپورٹ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنسدان اپنے کردار کو سمجھیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں،ہم نے اگر دنیا کے ساتھ ہم قدم ہونا ہے تو ہمیں بغداد اور اندلس کے سائنسدانوں کے انداز میں کام کرنا ہوگا۔
پروگرام کا آغاز پلاننگ کمیشن کے ممبر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر نجیب اللہ کے ایک جامع خطاب سے ہوا۔ انہوں نے پاکستان کے انوویشن ایکو سسٹم کا تفصیلی جائزہ فراہم کیا، جس میں کمرشلائزیشن، وینچر کیپیٹل سپورٹ، اور صنعتی تعاون میں فرق کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے وسائل کو کلسٹر کرنے، سول ملٹری ریسرچ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے فنڈنگ کے طریقہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر ایم اسلم بیگ نے پالیسی پر موثر عمل درآمد اور تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر شوکت حمید، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے فیلو اور ایک معزز آپٹیکل فزیکسٹ، نے ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے سائنسی پیشرفت کو بروئے کار لانے کے بارے میں بصیرت کا اشتراک کیا، جبکہ ڈاکٹر صہیب حسن، ممبر پرائیویٹ سیکٹر اینڈ انڈسٹریل گروتھ وزارت منصوبہ بندی نے تبدیلی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ صنعت اور اکیڈمی کے روابط کا۔ ڈاکٹر حسن نے کم قیمت کی برآمدات سے آگے بڑھنے اور بااختیار پبلک پرائیویٹ تعاون کے ذریعے اختراعی برانڈز کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر طارق وحید، SZABIST کے سوشل سائنس کے شعبہ کے سربراہ، صحت کی تحقیق اور ڈیجیٹل صحت کے اقدامات میں جدت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہوں نے آلات جراحی اور دواسازی جیسے شعبوں میں پاکستان کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر زور دیا، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہو گا اور صحت کی عالمی کوریج حاصل ہو گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے تحقیق اور تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
کانفرنس کا مقصد پاکستان کے لیے ایک اختراعی اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر کے لیے درکار اسٹریٹجک فریم ورک اور باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کو حل کرنا تھا۔ یہ اقدام سائنس، ٹیکنالوجی، اور انجینئرنگ کو قوم کی ترقی اور ترقی کے انجن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو متحد کرنے کی کوشش کی نمائندگی کرتا ہے