Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر ناقابل قبول ہے پی ایس ڈی پی 2024-25 کی پہلی سہ ماہی کی پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا فنڈز کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور

November 29, 2024
پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر ناقابل قبول ہے  پی ایس ڈی پی 2024-25 کی پہلی سہ ماہی کی پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا فنڈز کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور
نومبر 2024 29

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال، جو کہ نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے جمعہ کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2024-25 کی پہلی سہ ماہی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اس اجلاس کا مقصد مختلف وزارتوں کی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔

اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت قومی صحت خدمات، قواعد و ہم آہنگی، وزارت قومی ورثہ و ثقافت، پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، پیٹرولیم ڈویژن اور سپارکو نے اپنے متعلقہ منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔

حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے پہلی سہ ماہی کے لیے 155 ارب روپے کی منظوری دی تھی۔ وزیر منصوبہ بندی نے ان فنڈز کے مؤثر استعمال اور ٹھوس نتائج کے حصول کی ضرورت پر زور دیا۔

پراجیکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے خاص طور پر جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ہدایت دی کہ منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے جیسا کہ پی سی-1 میں ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کے لیے مطلوبہ فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ تاخیر سے بچا جا سکے۔ اسی طرح نئے منصوبوں کے لیے بھی مقررہ مدت کے دوران بجٹ مختص کیا جائے تاکہ عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

وفاقی وزیر نے ان منصوبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے جن پر کوئی اخراجات نہیں ہوئے، ہدایت دی کہ ان منصوبوں کو معطل کر کے ان کے فنڈز جاری منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے منتقل کیے جائیں۔ "منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے محدود ملکی مالی وسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک جیسے کئی منصوبوں سے مکمل گریز کیا جائے۔ "حکومت کے محدود وسائل کو ہر ممکن دانشمندی اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے، تاکہ قومی ترقی کے لیے زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکیں،

یہ اجلاس پی ایس ڈی پی فنڈز کے استعمال میں احتساب اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ایک وسیع تر اقدام کا حصہ ہے۔ وزارتوں اور ڈویژنوں کے اخراجاتی رویے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہت تاکہ منصوبوں کو قومی ترجیحات کے مطابق بنایا جا سکے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ان جائزوں کا مقصد نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کو قومی ترجیحات کے مطابق بنانا ہے بلکہ شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بنانا ہے۔ اجلاس کے نتائج آئندہ فنڈز کی تقسیم اور پالیسی میں اصلاحات کے لیے رہنما اصول فراہم کریں گے، تاکہ یہ منصوبے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں حقیقی کردار ادا کر سکیں۔

یہ اجلاس حکومت کے ترقیاتی پروگرام میں شفافیت، احتساب، اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کیے جانے والے ٹھوس اقدامات کا مظہر ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے متعلقہ وزارتوں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں۔