اسلام آباد (17 جنوری 2025): وزارت منصوبہ بندی، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اور اقبال اکیڈمی کے نمائندوں کے درمیان اقبال اکیڈمی کی استعداد کار بڑھانے اور اقبال کے فلسفے کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ "اقبال کا فلسفہ اور وژن پاکستان کی سافٹ پاور کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے ملک کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔" انہوں نے ہدایت کی کہ اقبال کے کلام کو فروغ دینے کے لیے منصوبے پر ایک ماہ کے اندر کام شروع کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اقبال کا فکری ورثہ نوجوان نسل کے لیے ایک قیمتی نظریاتی اثاثہ ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اقبال اکیڈمی کے لیے ایک لاکھ روپے مختص کیے تھے، جو آج کے 40 سے 50 کروڑ روپے کے برابر ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ اقبال اکیڈمی اب ایک خودمختار ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے اور اسے مضبوط اور مستحکم بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقبال کی تخلیقات دنیا بھر کے چھ ہزار کتب خانوں میں موجود ہیں اور اقبال کے کلام کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت ایک منصوبہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ میں اقبال ریسرچ سینٹر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ فیض احمد فیض سینٹر کی طرز پر اقبال سینٹر وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں اقبال اکیڈمی کو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ اقبال کا پیغام زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اقبال اکیڈمی کو ایک مضبوط اور خودمختار ادارہ بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ اقبال کے وژن کو نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر فروغ دیا جا سکے