Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

سبز انقلاب: بلوچستان میں امید کا سفر

February 15, 2025
سبز انقلاب: بلوچستان میں امید کا سفر
سبز انقلاب: بلوچستان میں امید کا سفر

بلوچستان، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور بے پناہ وسائل کے باوجود ترقی کے سفر میں پیچھے رہ گیا تھا، آج ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ وہی زمین، جو کبھی بنجر اور خشک تھی، اب زرخیز کھیتوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال جب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی کے سنہری گندم کے کھیتوں میں قدم رکھتے ہیں، تو ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے—وہ تاریخ جو بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید دے رہی ہے۔

یہ سرسبز کھیت پنجاب کے نہیں بلکہ بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی کے ہیں! یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں، اور اس کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کا وژن اور وزیراعظم شہباز شریف کی محنت شامل ہے۔ کاچی کینال، جو کبھی صرف ایک خواب تھا، آج حقیقت بن چکی ہے اور ہزاروں ایکڑ زمین کو سیراب کر کے بلوچستان میں زرعی انقلاب لا رہی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال، جنہوں نے اس منصوبے کو حقیقت میں بدلا، جب کسانوں سے ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر خوشی کی ایک نئی روشنی نظر آتی ہے۔ جو زمین کبھی بنجر تھی، آج وہی سنہری فصلوں سے بھر چکی ہے۔

یہ کامیابی آسان نہ تھی۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے کاچی کینال کو شدید نقصان پہنچایا اور بلوچستان کے کسان پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے۔ مگر وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے فوری اقدامات کیے، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ربیع کی فصل کے لیے پانی وقت پر دستیاب ہو۔ آج یہ سرسبز کھیت صرف زمین کی زرخیزی کی نہیں، بلکہ بلوچستان کے عوام کے عزم اور حکومت کے غیر متزلزل عہد کی علامت ہیں۔

جب پروفیسر احسن اقبال مقامی کسانوں اور بچوں سے ملتے ہیں، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا ترقی کا وژن صرف منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ وہ کسانوں کی باتیں سنتے ہیں، ان کے مسائل کو سمجھتے ہیں، اور ان کی کامیابیوں کو سراہتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کے لیے وہ ایک دور بیٹھا ہوا وزیر نہیں، بلکہ ایک ایسا ساتھی اور رہنما ہیں جو ان کی ترقی کو اپنا مشن سمجھتا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، پروفیسر احسن اقبال کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ احسن اقبال کی خدمات کو یاد رکھیں گے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں بلوچستان اور وفاق ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے نظر آتے ہیں، اور یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ ترقی کا سفر صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔

زرعی انقلاب کے ساتھ ساتھ پروفیسر احسن اقبال کی نظریں بلوچستان کے نوجوانوں کے روشن مستقبل پر بھی ہیں۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور حکومت بلوچستان کے درمیان معاہدے کی تقریب میں وہ تعلیم کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
“تعلیم سب سے بڑا مساوات پیدا کرنے والا ذریعہ ہے۔”

مسلم لیگ (ن) ہمیشہ تعلیم کو اپنی ترجیح بناتی آئی ہے، اور احسن اقبال نے اپنی سابقہ مدت میں بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ نوشکی، پشین، وڈھ، گوادر میں نئی جامعات قائم کی گئیں، جبکہ بیوٹمز، سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف بلوچستان اور یونیورسٹی آف لورالائی جیسے اداروں کو مزید مضبوط کیا گیا۔ آج یہ جامعات بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنا کر انہیں پاکستان کی ترقی کا حصہ بنا رہی ہیں۔

بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے تعلیم کی راہ ہموار کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے۔
“ایک تعلیم یافتہ لڑکی پوری نسل کو بدل سکتی ہے،” احسن اقبال یاد دلاتے ہیں، اس عزم کے ساتھ کہ بلوچستان کی بیٹیاں بھی ترقی کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گی۔

سڑکیں جو مستقبل کو جوڑ رہی ہیں

بلوچستان کی ترقی کا خواب صرف پانی اور تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ سڑکوں کے جال سے بھی وابستہ ہے۔ احسن اقبال یاد دلاتے ہیں کہ 2013 سے پہلے گوادر باقی پاکستان سے کٹا ہوا تھا، لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 650 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کر کے بلوچستان کی معیشت کو نئی سمت دی۔ آج وہی راستے بلوچستان کے لوگوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع کے دروازے کھول رہے ہیں۔

مگر ترقی کا یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ ترقی دشمن عناصر جو بلوچستان میں خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے، انہوں نے سڑکیں بنانے والے بہادر سپاہیوں کو نشانہ بنایا، مگر حکومت نے نہ تب پیچھے ہٹنے کا سوچا، نہ آج پیچھے ہٹے گی۔
“ہم ترقی اور امن کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے!” احسن اقبال دو ٹوک انداز میں اعلان کرتے ہیں۔

مستقبل کا سفر: اُڑان پاکستان کے تحت خوشحالی

بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبے حکومت پاکستان کے وژن “اُڑان پاکستان” کے عین مطابق ہیں۔ یہ فریم ورک پیداواری صلاحیت، معیار، اور جدت پر زور دیتا ہے تاکہ پاکستان کی ترقی نہ صرف تیز ہو بلکہ پائیدار بھی ہو۔

اس وژن کے تحت:
- کاچی کینال جیسے زرعی منصوبے خوراک کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں
- تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی نوجوانوں کو بااختیار بنا رہی ہے۔
- سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں۔
- صنعتی تعاون مقامی معیشتوں کو مستحکم کر رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال کا بلوچستان کا دورہ صرف منصوبوں کے معائنے تک محدود نہیں، بلکہ ایک خودمختار اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھنے کا عزم ہے۔ اُڑان پاکستان کے تحت یہ ترقی محض عارضی نہیں بلکہ ایک طویل مدتی اور مستقل تبدیلی کا آغاز ہے۔

جب احسن اقبال کھیتوں کے درمیان کھڑے ہو کر زرخیز زمین کو دیکھتے ہیں، تو یہ صرف ایک زرعی کامیابی نہیں بلکہ عزت اور وقار کی بحالی کا لمحہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کو ان کا حق ملنے کا آغاز ہو چکا ہے۔

یہ دورہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ وفاقی حکومت، میاں محمد نواز شریف کے وژن اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، بلوچستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

بلوچستان اب صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ ترقی کے لیے جئے گا۔ یہ صرف شروعات ہے!

ڈیرہ بگٹی کے سرسبز کھیت خوشحال بلوچستان اور مضبوط پاکستان کی گواہی دے رہے ہیں