اُڑان پاکستان وژن کے تحت 2047 تک قمری تحقیقاتی مرکز کے قیام کا عزم
20 فروری 2025
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ خلائی سائنسز اور جدید ٹیکنالوجی قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان نے عالمی خلائی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے اُڑان پاکستان وژن کے تحت ٹھوس اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
وہ نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTEC) اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار “زمین سے مدار تک: خلائی مستقبل میں پاکستان کا اسٹریٹیجک کردار” سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں اور عالمی شراکت داروں نے شرکت کی۔ سیمینار میں خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے پاکستان کی ترقی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، آٹومیشن اور خلائی سائنسز کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 2013-2018 کے دوران ملک میں ان شعبوں کو فروغ دینے کے لیے کئی قومی منصوبے متعارف کروائے گئے، جن میں نیشنل سینٹر فار جی آئی ایس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجی کا قیام اور ملکی سطح پر سیٹلائٹ تحقیق کی ترقی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 2035 تک اپنا پہلا خلائی مشن چاند پر بھیجنے اور 2047 تک ایک قمری تحقیقاتی مرکز کے قیام کا ہدف رکھتا ہے، جو پاکستان کی آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔
پروفیسر احسن اقبال نے خلائی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی زراعت، موسمیاتی تغیرات، قدرتی آفات سے نمٹنے اور جدید مواصلاتی نظام میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا:
“خلائی سائنسز قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی کا نیا محاذ ہیں، اور اس میں سرمایہ کاری اب ناگزیر ہو چکی ہے۔”
مزید برآں، انہوں نے پاکستان کی معیشت کے مستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت 2035 تک پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے لیے آبادی میں تیز اضافے، وسائل کے مؤثر انتظام اور پالیسی اصلاحات جیسے چیلنجز سے نمٹنا ناگزیر ہوگا، بصورت دیگر ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، وفاقی وزیر نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں خصوصاً اوورسیز کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ قومی ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار اور ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکتا ہے۔