Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

پالیسی بورڈ کا دوسرا اجلاس، نجی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کے فروغ پر زور پاکستان کا روشن مستقبل یقینی بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کی شراکت داری ناگزیر ہے، احسن اقبال

February 20, 2025
پالیسی بورڈ کا دوسرا اجلاس، نجی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کے فروغ پر زور
 
پاکستان کا روشن مستقبل یقینی بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کی شراکت داری ناگزیر ہے، احسن اقبال

20 فروری 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے تحت پالیسی بورڈ کا دوسرا اجلاس وزارت منصوبہ بندی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، صنعتکاری، انفراسٹرکچر اپگریڈیشن، اختراعات اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں پالیسی بورڈ کے ارکان، جن میں صنعتکار، برآمد کنندگان، کارپوریٹ سیکٹر کے رہنما، برانڈ ماہرین، ماہرین تعلیم، سماجی ترقی کے ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل تھے، نے ملکی معیشت کو 5Es فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “اگر پاکستان کو 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے تو ہمیں 5Es فریم ورک یعنی برآمدات میں اضافہ (Exports Enhancement)، ای-گورننس (E-Governance)، ماحول دوست ترقی (Eco-Innovation)، اقتصادی زونز (Economic Zones) اور تعلیم و ہنرمندی (Education & Skills) پر کام کرنا ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو پالیسی سپورٹ اور سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ برآمدات کو بڑھایا جا سکے اور معیشت میں جدت لائی جا سکے۔

اجلاس میں پاکستان میں صنعتی کلسٹرز کے فروغ اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ زرعی اور صنعتی شعبے میں 27 کلسٹرز کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن میں سے 13 کی تفصیلی سٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں۔ احسن اقبال نے ہدایت کی کہ مائننگ کلسٹرز پر بھی اسٹڈی مکمل کر کے سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید وسعت دی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹی گریجویٹس کے نصاب میں انٹرپرینیورشپ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ نئی نسل کاروباری مواقع پیدا کرنے کے قابل ہو اور برآمدات کو فروغ دے سکے۔ “ہمارے نوجوانوں کو جاب سیکرز کے بجائے جاب کری ایٹرز بننے کی ترغیب دینی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں صنعتوں میں آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ہوگا تاکہ عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کر سکیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ “حکومت اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہے کہ ایکسپورٹ فرینڈلی پالیسیوں پر مزید کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ سے زیادہ شیئر حاصل کر سکیں۔ ہمیں چین، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ کی مارکیٹس میں اپنے ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول پر توجہ دینی ہوگی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو اگر مستحکم کرنا ہے تو ہمیں پالیسیوں میں استحکام لانا ہوگا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اڑان پاکستان جیسے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں، جن سے پاکستان کی معیشت کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ “اڑان پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ایک جامع منصوبہ ہے، جس کے تحت:
• کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل ریفارمز متعارف کرائی جائیں گی۔
• صنعتی اور زرعی کلسٹرز کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کر کے ملکی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔
• برآمدات میں اضافے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے۔
• تعلیم اور ہنر کے فروغ کے لیے جدید اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔

احسن اقبال نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اگر پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے ترقی یافتہ، خودکفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی ملک بنانا ہے تو حکومت اور نجی شعبے کو مل کر طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کرنا ہوگا۔ “یہ وقت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کا ہے۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہوگا،” انہوں نے کہا۔

اجلاس میں شریک اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے “اڑان پاکستان” کو ایک گیم چینجر قرار دیا اور پالیسی بورڈ کے تحت مشترکہ کاوشوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔