Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

احسن اقبال کی زیر صدارت این ای سی کے منظور کردہ 11 مشنز میں شامل ہیومن کیپیٹل اینڈ اسکلز مشن کا پہلا اجلاس

October 7, 2026
احسن اقبال کی زیر صدارت این ای سی کے منظور کردہ 11 مشنز میں شامل ہیومن کیپیٹل اینڈ اسکلز مشن کا پہلا اجلاس
*اسلام آباد، 7 اکتوبر 2026:* وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک کے تحت 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ساتویں، ہیومن کیپیٹل اینڈ اسکلز مشن (انسانی وسائل اور مہارتوں سے متعلق مشن) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے طویل مدتی اقتصادی تغیر کی حکمت عملی کے مرکز میں انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کو رکھنا ہے۔

اجلاس میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں صحت، تعلیم اور مہارتوں کے شعبوں میں پاکستان کی موجودہ صورتحال، اڑان پروگرام کے طے کردہ اہداف اور ان کے حصول کے لیے مجوزہ وفاقی و صوبائی ترسیلی طریقہ کار (ڈیلیوری میکانزم) کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا، ’’2047 میں، جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے گا، تب ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ آج ہمارے سامنے سب سے فیصلہ کن سوال یہی ہے۔ جس طرح ہم نے معرکہ حق جیتا تھا، اسی طرح اب ہمیں ’معرکہ ترقی‘ جیتنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ترقیاتی منصوبے تو کئی بار بنائے، لیکن سیاسی عدم استحکام نے پالیسیوں کے تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر طویل مدتی سماجی و معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ’’انسانی وسائل اور مہارتوں پر سرمایہ کاری ہی پاکستان کی آئندہ ترقی کی بنیاد ہے۔‘‘

سماجی شعبوں سے نمٹنے کے لیے قومی ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر

احسن اقبال نے کہا کہ سماجی شعبے کے چیلنجز سڑکوں اور عمارتوں سے زیادہ اہم ہیں اور ان سے قومی ایمرجنسی کے طور پر نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، غذائیت، پینے کے صاف پانی اور آبادی میں توازن کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی، ’’پاکستان کی شرح خواندگی 63 فیصد ہے۔ خواندگی کی اس سطح کے ساتھ ہم مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کر سکتے۔‘‘ وفاقی وزیر نے 2.55 فیصد کی تیز رفتار آبادیاتی شرح افزائش کو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور متنبہ کیا کہ بے قابو اضافہ ملک کی اقتصادی ترقی کی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجی اشاریوں میں نمایاں بہتری کے لیے کم از کم دس سال پر محیط مسلسل اور مربوط نظام درکار ہوگا۔

انسانی سرمائے میں کمی پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ

اجلاس میں پیش کی گئی بریفنگ میں اس مشن کی ہنگامی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

انسانی ترقی کے اشاریے (Human Development Index) پر پاکستان 193 ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے، جبکہ ہیومن کیپیٹل انڈیکس میں اس کا اسکور 0.41 ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا بچہ اپنی مجموعی پیداواری صلاحیت کا محض 41 فیصد ہی حاصل کر پائے گا۔ ملک میں بچوں کی نشوونما میں کمی (سٹنٹنگ) کی شرح 40.2 فیصد ہے جو کہ خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے، اور ملک کا ہر صوبہ و خطہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی 30 فیصد کی ’’انتہائی بلند‘‘ حد سے اوپر ہے۔ دوران زچگی اموات کی شرح فی 1 لاکھ زندہ پیدائش پر 186 ہے، جو پائیدار ترقیاتی اہداف (SDG) کے 70 اموات کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔

تعلیم کے شعبے میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ (26 ملین) بچے (28 فیصد) اسکولوں سے باہر ہیں، اور سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت میں داخلہ لینے والے ہر 100 بچوں میں سے صرف 46 دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں۔ شرح خواندگی پنجاب میں 68 فیصد سے لے کر بلوچستان میں 49 فیصد کے درمیان ہے۔

مہارتوں کے شعبے میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح صرف 22.7 فیصد ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 68.7 فیصد ہے۔ 45.4 فیصد نوجوان خواتین تعلیم، روزگار یا کسی قسم کی تربیت سے محروم ہیں، اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والوں کا تناسب تقریباً 11 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ نوجوان لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔

بریفنگ میں مثبت پیش رفت کے پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا، جن میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل کوریج شامل ہے جو قومی سطح پر بڑھ کر 81.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

18ویں ترمیم کے پندرہ سال بعد: اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اضلاع تک لازمی

وفاقی وزیر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد سماجی شعبوں میں بہتری لانا تھا، لیکن چونکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے گئے، اس لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 سے 2025 کے دوران ترقی کی رفتار توقعات سے کہیں کم رہی، جس کی بڑی وجہ اختیارات کا ارتکاز تھا، اور پندرہ سال پہلے کے مقابلے میں سماجی شعبوں میں درکار بہتری نظر نہیں آئی۔

انہوں نے واضح کیا، ’’ایک صوبائی سیکرٹری پورے صوبے کے مسائل مؤثر طریقے سے حل نہیں کر سکتا۔ اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا ہوں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر بااختیار ادارے قائم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات مل سکیں، اور اس کے لیے انتظامی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔ وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں گورننس کی اصلاحات لائیں اور ان محکموں میں اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل افسران تعینات کریں۔

منصوبہ بندی سے عملی نفاذ تک

احسن اقبال نے زور دیا کہ محض منصوبے بنانے کا وقت گزر چکا ہے اور اب ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’وزارت منصوبہ بندی کا کام بہترین شواہد پر مبنی منصوبہ بندی فراہم کرنا ہے۔ عمل درآمد کی ذمہ داری متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ صرف بہترین منصوبہ بندی اور مؤثر عمل درآمد کا امتزاج ہی ہمیں ترقیاتی اہداف کے حصول کی ضمانت دے سکتا ہے۔‘‘

ہیومن کیپیٹل اینڈ اسکلز مشن، تمام 11 قومی معاشی مشنز میں سب سے زیادہ صوبائی سطح سے جڑا ہوا مشن ہے، کیونکہ صحت، تعلیم اور مہارتوں کے شعبے بنیادی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ وفاق کا کردار معیارات کے تعین، پالیسی روابط، بین الاقوامی وعدوں، مالیاتی مکالمے اور اعداد و شمار کو یکجا کرنے پر مرکوز ہے۔

صحت، تعلیم اور مہارتوں کے لیے ’’اڑان‘‘ اہداف

’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت اس مشن کے اہداف میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں 35 فیصد، بچوں میں سٹنٹنگ اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 18، 18 فیصد کمی لانا، ہنر مند عملے کی زیر نگرانی ولادت کے عمل کو 85 فیصد تک بڑھانا، تعلیمی اخراجات کو جی ڈی پی کے 4 فیصد تک پہنچانا، شرح خواندگی میں 10 فیصد بہتری لانا، سالانہ 15 لاکھ (1.5 ملین) ملازمتیں پیدا کرنا اور لیبر فورس میں خواتین کی شرکت میں 17 فیصد اضافہ کرنا شامل ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ان قومی اہداف کو سالانہ، صوبائی اور علاقائی سنگ میلوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ہر سال ہونے والی پیش رفت واضح، قابل موازنہ اور قابل نگرانی رہے۔ صحت کے اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھانے کے علاوہ مشن کے مانیٹرنگ فریم ورک میں کل زرخیزی کی شرح (TFR) اور مانع حمل کے استعمال کی شرح (CPR) جیسے آبادیاتی اشاریوں کو شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔

وفاق اور صوبوں کا مربوط ترسیلی طریقہ کار

بریفنگ میں وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل پاپولیشن کونسل (NPC) سے منسلک ایک ترسیلی ڈھانچہ تجویز کیا گیا، جس میں تعلیم، صحت و آبادی، اور مہارتوں کے تین ورکنگ گروپس متعلقہ محکموں، ترقی و منصوبہ بندی (P&D)، فنانس اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں گے۔ غذائیت (نیوٹریشن) سے متعلق ایک موضوعاتی ورکنگ گروپ بھی اتنا ہی اہم قرار دیا گیا۔

یہ ورکنگ گروپس ہر دو ہفتے بعد اجلاس منعقد کریں گے، وفاقی و صوبائی رکاوٹوں کو دور کریں گے اور پیش رفت کی رپورٹ ایگزیکٹو کمیٹی کو پیش کریں گے۔ یہ گروپس وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) اور صوبائی اینول ڈویلپمنٹ پروگرامز (ADPs) کی میپنگ کریں گے تاکہ موجودہ منصوبوں، دستیاب فنڈز اور کمی کی نشاندہی کر کے ترقیاتی اخراجات کو مشن کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ وزارت منصوبہ بندی کا مانیٹرنگ اینڈ ٹریکنگ یونٹ نیشنل پاپولیشن کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے لیے معاونت اور نگرانی کا عمل انجام دے گا۔

معاشی تغیر کے لیے ایٹمی پروگرام جیسا جذبہ درکار

احسن اقبال نے کہا، ’’اڑان پاکستان کے 11 قومی اقتصادی مشنز کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اسی عزم اور محنت کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے کیا تھا۔‘‘

اجلاس میں صحت، تعلیم، منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ مہارت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ہیومن کیپیٹل اینڈ اسکلز مشن کا مقصد پاکستان کے طویل مدتی اقتصادی تغیر کے ایجنڈے کو ہدف پر مبنی، قابل پیمائش اور مقررہ وقت کے اندر قومی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔