Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

پاکستان ملکی معیشت کو ریڈ زون سے نکالنے میں کامیاب ، ریکوری کی طرف گامزن, وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال

August 18, 2022
پاکستان ملکی معیشت کو ریڈ زون سے نکالنے میں کامیاب ، ریکوری کی طرف گامزن, وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملکی معیشت کو ریڈ زون سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور ملک اب ریکوری کی طرف گامزن ہے جبکہ سی پیک منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے.


ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI) کے زیر اہتمام "CPEC-Green Development" کے عنوان سے ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی.
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے استحکام کا راستہ تلاش کر لیا ہے اور پاکستان کے بارے میں دنیا کی رائے تبدیل ہو چکی ہے.

"پاکستان اور چین کے درمیان آنے والے منصوبے گرین اکانومی اور توانائی کے شعبوں پر مبنی ہوں گے کیونکہ موجودہ حکومت قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے.

وفاقی وزیر اس بات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے اپنے سرمایہ کاروں کو پاکستان بھیج کر دوست ہونے کا ثبوت دیا جسکا پاکستان ہمیشہ مشکور رہے گا.


انکا مزید کہنا تھا کہ صدر شی کے سی پیک کے وژن کے مطابق پاکستان ان منصوبوں کو بھی ترجیح دیے گا جو گرین اکانومی کو فروغ دیتے ہیں.

پروفیسر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ
ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی اہم شعبے ہیں اور دنیا بھر میں اثرات پیدا کر رہے ہیں۔ ہمارے کم کاربن فوٹ پرنٹ کے باوجود، ہم اب بھی سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں.

انکا کہنا تھا کہ اپریل 2014 میں جب صدر شی نے پاکستان کا دورہ کیا تو 46 ملین ڈالر مالیت کے تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے اور پوری دنیا پاکستان کو سرمایہ کاری کی ایک ممکنہ منزل کے طور پر دیکھنے لگی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں سی پیک کا ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا.

انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس سی پی کے تحت منصوبوں کو ترجیح بنیادوں پر تیز کر رہی جسکی نگرانی وزیراعظم شہباز شریف خود کر رہے ہیں, خاص طور پر انڈسٹریلائزیشن زونز کی تعمیر جنہیں پچھلی حکومت نے روک دیا تھا.

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام، سماجی یکجہتی اور پالیسی کا تسلسل کسی بھی ملک کی ترقی اور پیشرفت کے حصول کے لیے اہم ستون ہیں.

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کا قیام پچھلی حکومت نے چند مخصوص لوگوں نوکری دینے کے لیے کیا تھا جسکی کاکردگی باکل صفر رہی اور یہ دع سال سے غیر فعال تھی جبکہ یہ کوئی سرمایہ کاری لانے میں بھی ناکام رہی.

انکا کہنا تھا کہ اتھارٹی کو شیلف کرنے کا فیصلہ سی پیک منصوبوں کی کارکردگی اور ان پر عمل درآمد میں تیزی لانا ہے جسطرح 2013 سے 2018 ان پر عملدرآمد کیا گیا تھا.