Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

گزشتہ چار سالوں میں نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام عدم توجہ کا شکار رہا, وفاقی وزیر منصوبہ بندی

August 29, 2022
گزشتہ چار سالوں میں نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام عدم توجہ کا شکار رہا, وفاقی وزیر منصوبہ بندی
فاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران سیلاب سے بچاؤ کے قومی پروگرام نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام پر کام نیں کہا گیا جو ایک مربوط سیلاب سے نمٹنے کے نظام کو تیار کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جسکے لیے 177 ارب کا بجٹ میں رکھا گیا تھا.

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا. نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام کا آغاز 2013 میں آبی ذخائر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک مربوط فلڈ مینجمنٹ سسٹم تیار کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ آپریشنز، سیلاب کی پیشن گوئی اور قبل از وقت وارننگ، سیلاب کے خطرے کی زوننگ اور واٹرشیڈ مینجمنٹ کے لیے 177 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
تاہم، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سالوں کے دوران ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ملک بدترین آفت کا سامنا کر رہا ہے.

وفاقی وزیر نے تازہ چیلنجز کو اجاگر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر پچھلی حکومت نے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام کے ذریعے کچھ کام کیا ہوتا تو سیلاب کی موجودہ صورتحال مختلف ہوتی اور آج پاکستان کو کم نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا.

انکا مزید کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب نے نہ صرف انسانی جانیں لی ہیں بلکہ اس نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور ذریعہ معاش کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ انھوں نے خبردار بھی کیا کہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات یقینی طور پر آنے والے مہینوں میں شدید غذائی عدم تحفظ کا باعث بن سکتے ہیں.

مزید براں وفاقی وزیر نے وزارت منصوبہ بندی کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لیے فوری طور پر کام ایک فریم ورک بناہیں
جسمیں خاص طور پر تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں جو حالیہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ان بحالی لے لیے کام شروع کریں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ وزارتوں کو بھی شامل کریں.