وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سال میں ملکی برآمدات 30 ارب سے 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت ہے،گزشتہ چار سال کے دوران معاملات ایڈہاک ازم پر چلائے گئے، ملک کی ترقی کی سالانہ ضروریات 1900 ارب روپے ہیں،موجودہ مالی سال ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 700 ارب روپے رکھے گئے ہیں.
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی کا خالد مگسی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا.
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں ملکی برآمدات 30 ارب سے 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت ہے، اگر برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے میں 10 سال لگے تو پھر بڑی مشکلات ہونگی, گزشتہ چار سال کے دوران معاملات ایڈہاک ازم پر چلائے گئے، ملک کی ترقی کی سالانہ ضروریات 1900 ارب روپے ہیں.
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ مالی سال ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 700 ارب روپے رکھے گئے، گزشتہ چار سال 42 فیصد وفاقی فنڈز صوبائی منصوبوں کیلئے مختص کر دیئے گئے، وفاقی منصوبوں کیلئے بہت کم فنڈز بچ گئے.
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور میں ویژن 2010 اور پھر ویژن 2025 دیا،گزشتہ حکومت پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دینے میں ناکام رہی.
انکا مزید کہنا تھا کہ سابق حکومت سب کو چور ڈاکو کہتی رہی، سابق حکومت نے چین کو بھی مہنگے منصوبوں کا الزام لگا کر ناراض کر دیا، اب ہم چین کا اعتماد بحال کر رہے ہیں، سی پیک پر پاک چین مشترکہ جے سی سی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، پاکستان کی ساری حکومت ادھار کے اوپر چل رہی ہے.
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ٹیکس آمدن اس سال 7 ہزار ارب ہوگی، اس میں سے 4 ہزار ارب روہے صوبوں کو چلا جائے گا، وفاق کے پاس تین ہزار ارب روپے بچ جائیں گے، وفاقی حکومت کو 2 ہزار ارب نان ٹیکس ریونیو بھی حاصل ہوگا، مجموعی 5 ہزار ارب روپے میں سے 4 ہزار ارب قرض کی ادائیگی پر چلا جائے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا ہے کہ چین کو سی پیک میں متبادل راہداری ملنے کا فائدہ ہے،چین کی تجارت کا 5فیصد حصہ بھی پاکستان سے شروع ہو جائے تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا ،چین کی کمپنیوں نے آئی پی پیز موڈ پر انرجی منصوبے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پلان ہے،پاکستان کواپنے محل وقوع کا فائدہ ہے،ہم ایک بڑے ریجن کے درمیان تجارتی مرکز بن سکتے ہیں, انہوں نے کہا کہ چین کو سی پیک میں متبادل راہداری ملنے کا فائدہ ہے،چین کی تجارت کا 5فیصد حصہ بھی پاکستان سے شروع ہو جائے تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہے،چین کی کمپنیوں نے آئی پی پیز موڈ پر انرجی منصوبے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے رعایتی قرض چین نے دیا،2020 سے 2025 کے درمیان ہم نے صنعتی تعاون پر جانا تھا،چین میں لیبر مہنگی ہونے کی وجہ سے 8 کروڑ سے زائد روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں.
احسن اقبال نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں چینی کمپنیوں کیلئے ویزوں پر مسائل پیدا ہوئے،ایسے ماحول میں کون کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد این ایف سی کے تحت محاصل کا 58فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے،پائیدار بنیادوں پر اقتصادی ترقی کے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ضروری ہے،ترقیاتی پروگرام میں قومی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے.
اجلاس میں رکن کمیٹی سید محمود شاہ نے کہا کہ ہمارے حلقے کا کوئی منصوبہ پی ایس ڈی پی میں نہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں آپ کی بات پر احتجاج کرتا ہوں،منصوبے باقاعدہ فورمز پر منظور ہوتے ہیں،ماضی میں لوگوں کو خوش کرنے کیلئے وفاقی بجٹ میں صوبائی منصوبے شامل کیے جاتے رہے.
اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے.
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی کا خالد مگسی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا.
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں ملکی برآمدات 30 ارب سے 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت ہے، اگر برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے میں 10 سال لگے تو پھر بڑی مشکلات ہونگی, گزشتہ چار سال کے دوران معاملات ایڈہاک ازم پر چلائے گئے، ملک کی ترقی کی سالانہ ضروریات 1900 ارب روپے ہیں.
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ مالی سال ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 700 ارب روپے رکھے گئے، گزشتہ چار سال 42 فیصد وفاقی فنڈز صوبائی منصوبوں کیلئے مختص کر دیئے گئے، وفاقی منصوبوں کیلئے بہت کم فنڈز بچ گئے.
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور میں ویژن 2010 اور پھر ویژن 2025 دیا،گزشتہ حکومت پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دینے میں ناکام رہی.
انکا مزید کہنا تھا کہ سابق حکومت سب کو چور ڈاکو کہتی رہی، سابق حکومت نے چین کو بھی مہنگے منصوبوں کا الزام لگا کر ناراض کر دیا، اب ہم چین کا اعتماد بحال کر رہے ہیں، سی پیک پر پاک چین مشترکہ جے سی سی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں، پاکستان کی ساری حکومت ادھار کے اوپر چل رہی ہے.
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ٹیکس آمدن اس سال 7 ہزار ارب ہوگی، اس میں سے 4 ہزار ارب روہے صوبوں کو چلا جائے گا، وفاق کے پاس تین ہزار ارب روپے بچ جائیں گے، وفاقی حکومت کو 2 ہزار ارب نان ٹیکس ریونیو بھی حاصل ہوگا، مجموعی 5 ہزار ارب روپے میں سے 4 ہزار ارب قرض کی ادائیگی پر چلا جائے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا ہے کہ چین کو سی پیک میں متبادل راہداری ملنے کا فائدہ ہے،چین کی تجارت کا 5فیصد حصہ بھی پاکستان سے شروع ہو جائے تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا ،چین کی کمپنیوں نے آئی پی پیز موڈ پر انرجی منصوبے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پلان ہے،پاکستان کواپنے محل وقوع کا فائدہ ہے،ہم ایک بڑے ریجن کے درمیان تجارتی مرکز بن سکتے ہیں, انہوں نے کہا کہ چین کو سی پیک میں متبادل راہداری ملنے کا فائدہ ہے،چین کی تجارت کا 5فیصد حصہ بھی پاکستان سے شروع ہو جائے تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہے،چین کی کمپنیوں نے آئی پی پیز موڈ پر انرجی منصوبے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے رعایتی قرض چین نے دیا،2020 سے 2025 کے درمیان ہم نے صنعتی تعاون پر جانا تھا،چین میں لیبر مہنگی ہونے کی وجہ سے 8 کروڑ سے زائد روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں.
احسن اقبال نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں چینی کمپنیوں کیلئے ویزوں پر مسائل پیدا ہوئے،ایسے ماحول میں کون کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد این ایف سی کے تحت محاصل کا 58فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے،پائیدار بنیادوں پر اقتصادی ترقی کے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ضروری ہے،ترقیاتی پروگرام میں قومی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے.
اجلاس میں رکن کمیٹی سید محمود شاہ نے کہا کہ ہمارے حلقے کا کوئی منصوبہ پی ایس ڈی پی میں نہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ میں آپ کی بات پر احتجاج کرتا ہوں،منصوبے باقاعدہ فورمز پر منظور ہوتے ہیں،ماضی میں لوگوں کو خوش کرنے کیلئے وفاقی بجٹ میں صوبائی منصوبے شامل کیے جاتے رہے.
اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے.