برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے پیر کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا.
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ دیرینہ تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے لیے تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو حکومت کے اقتصادی ایجنڈے اور ترجیحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت کا مقصد معاشی اور مالی استحکام لانا ہے باوجود اس کے کہ ملک کو ایک بدترین سیلاب کی آفت کا سامنا بھی کرنا پڑا جسکے پاکستانی معیشت پر بڑے منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں.
ملاقات میں پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کے مرحلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا. برطانوی ہائی کمشنر نے حالیہ سیلاب میں خاص طور پر قلیل عرصے میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور وزارت کی جانب سے شروع کیے گئے بحالی کے منصوبے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا.
وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو مزید بتایا کہ PDNA کے کامیاب آغاز کے بعد، وزارت نے مختصر اور طویل مدتی منصوبوں پر مشتمل ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جسے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے کو جلد اپنی تجاویز پیش گہے اور ان تجاویز کی روشنی میں ایک جامع فریم ورک ڈونر کانفرنس میں پیش کیا جائے گا.
مزید براہ، وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ، وزارت منصوبہ بندی نے موسمیاتی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہے
منصوبوں بھی اس فرہم ورک میں شامل
کیے ہیں جنہیں آئندہ ڈونر کانفرنس میں پیش جائے گا.
وفاقی وزیر نے شیوننگ اسکالرشپ
میں Chevening Scholarships
پاکستانی طلباء کی تعداد سالانہ80 سے 150 کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو پاکستانی نوجوان کے لیے ایک اہمیت کا حامل سکالرشپ ہے.
برطانوی ہائی کمشنر نے اس تجویز کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ دیرینہ تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے لیے تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو حکومت کے اقتصادی ایجنڈے اور ترجیحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت کا مقصد معاشی اور مالی استحکام لانا ہے باوجود اس کے کہ ملک کو ایک بدترین سیلاب کی آفت کا سامنا بھی کرنا پڑا جسکے پاکستانی معیشت پر بڑے منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں.
ملاقات میں پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کے مرحلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا. برطانوی ہائی کمشنر نے حالیہ سیلاب میں خاص طور پر قلیل عرصے میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور وزارت کی جانب سے شروع کیے گئے بحالی کے منصوبے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا.
وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو مزید بتایا کہ PDNA کے کامیاب آغاز کے بعد، وزارت نے مختصر اور طویل مدتی منصوبوں پر مشتمل ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جسے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے کو جلد اپنی تجاویز پیش گہے اور ان تجاویز کی روشنی میں ایک جامع فریم ورک ڈونر کانفرنس میں پیش کیا جائے گا.
مزید براہ، وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ، وزارت منصوبہ بندی نے موسمیاتی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہے
منصوبوں بھی اس فرہم ورک میں شامل
کیے ہیں جنہیں آئندہ ڈونر کانفرنس میں پیش جائے گا.
وفاقی وزیر نے شیوننگ اسکالرشپ
میں Chevening Scholarships
پاکستانی طلباء کی تعداد سالانہ80 سے 150 کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو پاکستانی نوجوان کے لیے ایک اہمیت کا حامل سکالرشپ ہے.
برطانوی ہائی کمشنر نے اس تجویز کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔