Public Awareness Campaign ON Corruption: "United Against Corruption for a Prosperous Pakistan....."
Official Press Release

معاشرے سے پولرائزیشن کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی

November 8, 2022
معاشرے سے پولرائزیشن کے خاتمے کے لیے  جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان پر حالیہ حملہ ایک ویک اپ کال ہے جبکہ ان پر بھی ایک ایسے ہی نوجوان نے 2018 میں حملہ کیا تھا جسکو مذہبی طور پر برین واش کیا گیا تھا اور ایسے رویئوں کو معاشرے سے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار
ٹوئٹر اسپیس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا جس کا عنوان ملک میں نفرت اور تشدد کی سیاست کو کیسے ختم کرنا تھا. وفاقی وزیر نے ٹوئٹر اسپیس پہ سامعین کے سوالات کے جوابات بھی دئیے.

وفاقی وزیر نے اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عمران خان نے مسلم لیگ کی سینئر قیادت جن میں میاں نوازشریف، انکی صاحبزادی مریم نواز، خواجہ آصف اور دیگر کے خلاف ایک باقاعدہ منظم چلائی اور ان پر حملے بھی کیے گئے جبکہ عمران خان نے اس وقت ان حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے اسے مسلم لیگ (ن) کے خلاف عوامی غصہ قرار دیا جو انتہائی افسوس کا مقام تھا.

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی نے ان کے خلاف من گھڑت مذہبی الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی بھی بھر پور کوشش کی. انہوں نے سامعین کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے معاشرے کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندانہ ذہنیت کو اجاگر کیا تھا اور حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے انتہا پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی بھی کرے.

وفاقی وزیر نے مزید اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی موقع ملا تھا جب عمران خان پر حملہ ہوا لیکن ہم نے اس واقعہ کی مزمت کی، لیکن ماضی میں پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن اور بالخصوص ان پر ہونے والے حملوں پر سیاست کی اس کے نتیجے میں، عمران خان نے معاشرے میں انتہا پسندی کی اس چنگاری کا خمیازہ خود بھگتنا پڑا رہا ہے.

پروفیسر اقبال نے مزید کہا کہ معاشرے میں انتہا پسندی سب کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور کوئی بھی اسے برداشت نہیں کرتا، انہوں نے گزشتہ دور حکومت کے دوران خاص طور پر معاشرے سے انتہا پسندانہ ذہنیت کو کم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے کئی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان منصوبوں میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، نظام انصاف میں بہتری، نوجوانوں کے لیے مراعات اور معاشی ترقی جیسے منصوبے شامل تھے لیکن بدقسمتی سے، پی ٹی آئی حکومت نے تمام منصوبوں کو بند کر دیا.

مزید برآں، پروفیسر احسن اقبال نے اس موضوع پر اظہار کرتے اکثیریت اور دوسروں کے نظریات اور آراء کو قبول کرنے پر ضرورت پر بھی زور دیا، انہوں نے کہا کہ اگر آپ چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں پینٹ کریں گے تو معاشرہ دوسروں کو برا سمجھے گا، معاشرہ انتہا پسندی کی طرف جائے گا. اسی طرح انہوں نے ایک مثال دی جس میں انہوں نے ٹوئٹر کے سامعین سے کہا کہ اگر کوئی لیڈر اپنے آپ کو نیک صفت کا ٹیگ لگاتا ہے اور سیاسی حریف کو برائی کا لیبل لگاتا ہے، اور اپنے آپ کو مومن اور دوسروں کو کافر سمجھنے کے نتیجے میں معاشرہ تشدد کی طرف جاتا ہے.

وفاقی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حریفوں کی رائے کو قبول کریں، کسی سے محض اس کی رائے کی بنیاد پر نفرت نہ کریں اور یہ افراد کا حق ہے کہ وہ کسی سے متفق نہ ہوں بلکہ صرف اس کی مختلف رائے کی بنا پر کسی سے نفرت کرنا شروع کر دیں.


وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا پاکستان اس قسم کی اندرونی انتشار برداشت کرسکتا ہے اور ہمیں معاشرے میں باہمی ہم آہنگی کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے.
.
سوشل میڈیا پر جعلی معلومات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے سامعین پر زور دیا کہ وہ خبروں کو سوشل میڈیا پر پھیلانے سے پہلے اس کی صداقت کو جانچ لیں، کیونکہ جعلی خبریں ایک بڑا چیلنج ہے.

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے ملک میں سیاسی استحکام کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ یہ ترقی اور نمو کی بنیادی سیڑھی ہے.