وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت پرائم منسٹر باصلاحیت نوجوان انٹرشپ پروگرام کا جائزہ لیا گیا جسکے تحت حکومت کی طرف سے شروع کے گئے ترقیاتی منصوبوں میں ملک کے نوجوانوں کو چھ ماہ سے ایک سال تک انٹرشپ دی جائے گی۔
اجلاس میں ممبر سوشل سیکٹر، وزارت منصوبہ بندی اور پرائیویٹ سیکٹرز کے حکام نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت ملک کے چالیس ہزار نوجوانوں کو نجی اور سرکاری اداروں میں انٹرنشپ کے مواقع دئیے جائیں گے تاکہ انٹرنشپ کے ذریعہ نوجوان پیشہ وارانہ تجربات اور مارکیٹ سکلز حاصل کر پائیں۔
یاد رہے کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے گزشتہ سال یہ منصوبہ منظور کیا تھا تاکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے انٹرشپ کے مواقع فراہم کئے جا سکیں جبکہ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوان متعلقہ شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کر کے روزگار کے بہتر مواقعوں سے مستفید بھی ہو سکیں۔
اس پروگرام کے تحت ہر نوجوان کو پچس ہزار ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا جبکہ انٹرشپ مکمل ہونے پر انٹرشپ سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا دو تہائی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت نوجوانوں کے کیے بھرپور اقدامات کر آٹھا رہی ہے تاکہ انکو روزگار کے ساتھ ایسے بااختیار بھی بنایا جائے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بے روزگاری کی بڑی وجہ برسوں کا نظام تعلیم ہے جسے ہم مارکیٹ کی ضروریات کے ساتھ منسلک نہیں کر سکے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت نےسخت مالی بحران کے باوجود نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے پروگرام شروع کیا۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کے تحت یہ نوجوان پاکستان کے مختلف نجی اداروں کے ساتھ منسلک ہونگے اور انکی جانچ پڑتال کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس حوالے سے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے سرکاری اور نجی اداروں کو گریجوئیٹس ورک فورس دستیاب ہو گی کیونکہ انجینئیرزاور دیگر تکنیکی علوم رکھنے والے طلبا کے پاس مارکیٹ کے سکلز کی کمی ہے، اور یہ انٹرن شپ پروگرام انہیں مطلوبہ فنی مہارت فراہم کرنے کا زریعہ ہونگے۔
وفاقی وزیر نے نجی اداروں پر زور دیا کہ ان انٹرنز کو تربیت فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا انتخاب بھی کیا جائے گا تاکہ ان نوجوانوں کی مانیٹرنگ اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک مربوط رابطہ برقرار ہو سکے۔
اجلاس میں ممبر سوشل سیکٹر، وزارت منصوبہ بندی اور پرائیویٹ سیکٹرز کے حکام نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت ملک کے چالیس ہزار نوجوانوں کو نجی اور سرکاری اداروں میں انٹرنشپ کے مواقع دئیے جائیں گے تاکہ انٹرنشپ کے ذریعہ نوجوان پیشہ وارانہ تجربات اور مارکیٹ سکلز حاصل کر پائیں۔
یاد رہے کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے گزشتہ سال یہ منصوبہ منظور کیا تھا تاکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے انٹرشپ کے مواقع فراہم کئے جا سکیں جبکہ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوان متعلقہ شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کر کے روزگار کے بہتر مواقعوں سے مستفید بھی ہو سکیں۔
اس پروگرام کے تحت ہر نوجوان کو پچس ہزار ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا جبکہ انٹرشپ مکمل ہونے پر انٹرشپ سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا دو تہائی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت نوجوانوں کے کیے بھرپور اقدامات کر آٹھا رہی ہے تاکہ انکو روزگار کے ساتھ ایسے بااختیار بھی بنایا جائے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بے روزگاری کی بڑی وجہ برسوں کا نظام تعلیم ہے جسے ہم مارکیٹ کی ضروریات کے ساتھ منسلک نہیں کر سکے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت نےسخت مالی بحران کے باوجود نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے پروگرام شروع کیا۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کے تحت یہ نوجوان پاکستان کے مختلف نجی اداروں کے ساتھ منسلک ہونگے اور انکی جانچ پڑتال کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس حوالے سے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے سرکاری اور نجی اداروں کو گریجوئیٹس ورک فورس دستیاب ہو گی کیونکہ انجینئیرزاور دیگر تکنیکی علوم رکھنے والے طلبا کے پاس مارکیٹ کے سکلز کی کمی ہے، اور یہ انٹرن شپ پروگرام انہیں مطلوبہ فنی مہارت فراہم کرنے کا زریعہ ہونگے۔
وفاقی وزیر نے نجی اداروں پر زور دیا کہ ان انٹرنز کو تربیت فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اس حوالے سے ایک فوکل پرسن کا انتخاب بھی کیا جائے گا تاکہ ان نوجوانوں کی مانیٹرنگ اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک مربوط رابطہ برقرار ہو سکے۔